غزل
وہ شخص کیا گیا کہ مرا دل بدل گیا
اک گھر تھا میرے اندر، وہ یکسر اجڑ گیا
جس کو تمام عمر کا حاصل سمجھ لیا
وہ ایک مختصر سا تعلق نکل گیا
میں اس کے بعد خود سے بھی ملتا نہیں
وہ مجھ سے کیا بچھڑا، مرا رستہ بدل گیا
میں اپنے زخم لے کے زمانے میں ہنس دیا
تنہائی میں گیا تو مرا ضبط پگھل گیا
وہ سامنے بھی آیا تو کچھ کہہ نہ پائے ہم
جو عمر بھر نہ کہہ سکے، آنکھوں سے بہہ گیا
اک عمر جس کے نام کی دھڑکن سنبھال رکھی
وہ نام کیا لیا کہ مرا دل مچل گیا
میں سوچتا تھا ہجر میں مر جاؤں گا مگر
وہ دن بھی جیسے تیسے، مرے سر سے ٹل گیا
اب اس سے کیا گلہ کہ وہ میرا نہیں رہا
جتنا تھا میرے ساتھ، وہ اتنا ہی مل گیا
میں لوٹ کر گیا بھی تو کیا دیکھتا وہاں
دیوار و در وہی تھے، مرا گھر بدل گیا
اک بات آخری تھی جو ہونٹوں پہ رہ گئی
وہ شخص جا چکا تھا، مرا وقت نکل گیا
میں بھولنے چلا تھا اسے ایک عمر بعد
اک موڑ پر وہ یاد آیا، ارادہ بدل گیا
نیاز یہ عشق بھی عجیب امانت تھا میرے پاس
وہ شخص تو چلا گیا، کچھ مجھ میں رہ گیا








