دل میں اک شور سا رہتا ہے رات بھر تنہا
کون ہے جو مجھے کرتا ہے رات بھر تنہا
شہر کے لوگ تماشائی بن کے دیکھتے ہیں
ایک دیوانہ جو پھرتا ہے رات بھر تنہا
تیری یادوں کی اذیت بھی کم نہیں لیکن
دل یہی سوچ کے جیتا ہے رات بھر تنہا
ایک مدت سے کوئی پاس نہیں بیٹھا میرے
میرا سایہ ہی تو رہتا ہے رات بھر تنہا
نیازعلی
چاند خاموش، فضا خاموش، ستارے گم صم
کون پھر مجھ سے یہ کہتا ہے رات بھر تنہا
اپنے اندر کئی آوازیں لیے پھرتا ہوں
کون اس درد کو سمجھا ہے رات بھر تنہا
لوگ ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں لمحوں کی طرح
کون کس کا یہاں ہوتا ہے رات بھر تنہا۔
No comments:
Post a Comment