data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Friday, 26 June 2026

Teri yado ki aziyat Bhi Kam nhi

دل میں اک شور سا رہتا ہے رات بھر تنہا

 کون ہے جو مجھے کرتا ہے رات بھر تنہا


شہر کے لوگ تماشائی بن کے دیکھتے ہیں

ایک دیوانہ جو پھرتا ہے رات بھر تنہا


تیری یادوں کی اذیت بھی کم نہیں لیکن

دل یہی سوچ کے جیتا ہے رات بھر تنہا


ایک مدت سے کوئی پاس نہیں بیٹھا میرے

 میرا سایہ ہی تو رہتا ہے رات بھر تنہا


نیازعلی 


 چاند خاموش، فضا خاموش، ستارے گم صم

کون پھر مجھ سے یہ کہتا ہے رات بھر تنہا


 اپنے اندر کئی آوازیں لیے پھرتا ہوں

 کون اس درد کو سمجھا ہے رات بھر تنہا


 لوگ ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں لمحوں کی طرح

 کون کس کا یہاں ہوتا ہے رات بھر تنہا۔ 

No comments:

Post a Comment