data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Monday, 22 June 2026

عشق سے پیار سے محبت سے, ishq se pyari se muhabbat se

مل رہے ہو بڑی عقیدت سے

مل رہے ہو بڑی عقیدت سے

خوف آتا ہے اتنی عزت سے

اس نے حیران ہونا سیکھ لیا

میں نے دیکھا ہی اتنی حیرت سے

اس نے مجھ کو بھلا دیا اک دن

اور بھلایا بھی کس سہولت سے

پردہ داروں نے خود کشی کر لی

صحن جھانکا گیا کسی چھت سے

زہر ایجاد ہو گیا اک دن

لوگ مرتے تھے پہلے غیرت سے

اور پھر جنگ چھڑ گئی میری

عشق سے پیار سے محبت سے

ہم زیادہ بگاڑ دیتے ہیں

بچ کے رہنا ہماری صحبت سے

اس کے دل میں اترنے لگتا ہوں

جو مجھے دیکھتا ہے نفرت سے

لوگ کردار بننا چاہتے ہیں

جیسے ممکن ہے سب ریاضت سے

اپنی گردن جھکا کے بات کرو

تم نکالے گئے ہو جنت سے


#urdupoetry

No comments:

Post a Comment