غزل
لوگ کردار بدلتے رہے موسم کی طرح
اپنی آنکھوں میں لیے ایک ہی چہرہ ہم ہی تو ہیں
نیازعلی
غزل
لوگ کردار بدلتے رہے موسم کی طرح
اپنی آنکھوں میں لیے ایک ہی چہرہ ہم ہی تو ہیں
نیازعلی
وقت کی دھوپ میں چہرے تھے بدل جانے والے
کون تھے اپنے، کہاں تھے وہ نبھانے والے
روشنی بانٹنے نکلا تو یہ جانا میں نے
سب سے آگے مرے اپنے تھے چراغ بجھانے والے
ہم نے ہر زخم کو خاموش دعا سمجھا تھا
وہ ہی نکلے مرے سینے کو دکھانے والے
ہم نے بازارِ وفا خوب سجایا لیکن
سب سے پہلے تھے وہی عہد بھلانے والے
تاج و تخت اور یہ زر، اہلِ ہوس کو مبارک
ہم تو مٹی ہیں، سو مٹی میں سما جانے والے
لفظ سچ بولنے لگ جائیں تو ڈر لگتا ہے
شہر بھر میں ہیں یہاں سچ کو دبانے والے
وقت کے ساتھ کئی رشتے دھواں ہو بیٹھے
ایک ہم تھے کہ رہے دل ہی جلانے والے
خاک سے پوچھ کہ انجامِ تکبر کیا ہے
خاک ہی ڈھونڈتی پھرتی ہے اکڑ جانے والے
درد جب حد سے گزرا تو ہنر بن بیٹھا
ہم نہ تھے اشک کے بازار سجانے والے
ہم نے سچ کہہ دیا، بس اتنی خطا تھی اپنی
ورنہ سب تھے یہاں دربار میں جانے والے
---
نیازعلی
یہاں ہر شخص اپنے فائدے کا یار لگتا ہے
محبت کم، ضرورت کا ہی بازار لگتا ہے
جو اپنے تھے، وہی سب سے زیادہ زخم دیتے ہیں
مجھے اب گھر بھی دشمن کا کوئی دربار لگتا ہے
تعلق رکھ تو لیتے ہیں سبھی مطلب نکلنے تک
یہاں ہر رشتہ کاغذ کا ہی اخبار لگتا ہے
غریبِ شہر سچ بولے تو جھوٹا ہی سمجھتے ہیں
امیرِ شہر ہر حال میں حق دار لگتا ہے
یہاں احساس کی قیمت نہیں باقی زمانے میں
ہر اک جذبہ کسی سودے کا اظہار لگتا ہے
وفاداری، خلوص، عشق — سب لفظوں کی باتیں ہیں
حقیقت میں تو ہر چہرہ اداکار لگتا ہے
میں اپنے آپ سے ملنے سے بھی ڈرتا ہوں اب اکثر
مجھے آئینہ بھی جیسے کوئی غدار لگتا ہے
نیازعلی
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا ہے بہت
لوگ سمجھتے ہیں ہمیں درد نے ڈھالا ہے بہت
اب کسی شخص پہ کھلتا ہی نہیں دل اپنا
وقت نے ہم کو اکیلے میں سنبھالا ہے بہت
ایک چہرہ تھا جو آنکھوں میں ٹھہرتا ہی رہا
دل نے اُس شخص کو خوابوں میں اُتارا ہے بہت
زندگی تیرے تقاضوں نے تھکا ڈالا مگر
دلِ ناداں کو ابھی جینے کا ارماں ہے بہت
لوگ سورج کی طرح وقت پہ ڈھل جاتے ہیں
ہم نے ہر دور میں اپنوں کو بدلتے دیکھا ہے بہت
کوئی لمحہ تو سکون ایسا عطا ہو مجھ کو
دل نے ہر سانس میں طوفان کو جھیلا ہے بہت
اب محبت بھی تجارت کی طرح لگتی ہے
ہم نے اس شہر کا دستور پرکھا ہے بہت
نیازعلی
دل میں اک شور سا رہتا ہے رات بھر تنہا
کون ہے جو مجھے کرتا ہے رات بھر تنہا
شہر کے لوگ تماشائی بن کے دیکھتے ہیں
ایک دیوانہ جو پھرتا ہے رات بھر تنہا
تیری یادوں کی اذیت بھی کم نہیں لیکن
دل یہی سوچ کے جیتا ہے رات بھر تنہا
ایک مدت سے کوئی پاس نہیں بیٹھا میرے
میرا سایہ ہی تو رہتا ہے رات بھر تنہا
نیازعلی
چاند خاموش، فضا خاموش، ستارے گم صم
کون پھر مجھ سے یہ کہتا ہے رات بھر تنہا
اپنے اندر کئی آوازیں لیے پھرتا ہوں
کون اس درد کو سمجھا ہے رات بھر تنہا
لوگ ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں لمحوں کی طرح
کون کس کا یہاں ہوتا ہے رات بھر تنہا۔
اب تو بازار میں احساس بھی بِک جاتا ہے
اور سچ ایسا کہ اخبار میں چھپتا ہی نہیں
لوگ چہروں کو سجائے ہوئے پھرتے ہیں بہت
کوئی اندر کی شکستوں کو سمجھتا ہی نہیں
ہر طرف شورِ ترقی ہے، تمدّن، تہذیب
آدمی اپنے ہی سایے سے نکلتا ہی نہیں
کتنے نعروں نے یہاں خون کو جائز ٹھہرایا
کوئی مقتول عدالت میں بلاتا ہی نہیں
جس کے ہاتھوں میں زمانے کی معیشت ہے ابھی
وہ کسی بھوک کو اعداد سے بڑھتا ہی نہیں
اب تو مذہب بھی سیاست کی زباں بولتا ہے
کوئی سجدے میں بھی پہلے سا پگھلتا ہی نہیں
لوگ تاریخ کو فتحوں کی کتابیں سمجھیں
کوئی برباد گھروں تک کبھی پہنچتا ہی نہیں
ہر طرف خوف کی دیوار کھڑی ہے ایسی
آدمی چیخ بھی دے تو کوئی سنتا ہی نہیں
جس نے ایٹم کی رگوں تک کو کھول کر دیکھ لیا
اپنے اندر کے اندھیرے میں اترتا ہی نہیں
اب مشینوں کو بھی احساس سکھایا جا رہا ہے
اور انسان کسی انسان سے ملتا ہی نہیں
نیازعلی خان
لوگ کہتے ہیں کہ اب وقت بہت آگے ہے
وقت انسان کے اندر سے گزرتا ہی نہیں
اب تو بازار میں احساس بھی بِک جاتا ہے
اور سچ ایسا کہ اخبار میں چھپتا ہی نہیں
جن آنکھوں نے دیکھے ہوں ترے خواب ہمیشہ
اے دوست ان آنکھوں کو رلایا نہیں کرتے
ہر شخص کے دامن میں سہارا نہیں ہوتا
ہر شخص کو یوں چھوڑ کر جایا نہیں کرتے
تم پارسا ہو مجھ سے گریزاں رہو کہ میں
بھٹکا ہوا خیال ہوں بھٹکا نہ دُوں تمہیں
~~~
تم کہاں تک کرو گے دلجوئی
میں تو اکثر اداس رہتا ہوں
~~~
حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے
~~~
میری تکمیل تیری ذات سے ھی ممکن ہے
توالگ ھو تو میری ذات میں کیا رکھا ہے
~~~
اک فقط تجھ سے تغافل نہیں برتا میں نے
ورنہ ہر ذات سے مفرور ہوئے پھرتے ہیں۔
~~~
پھر یوں ہوا کہ حسرتیں پیروں میں گر پڑیں
پھر میں نے ان کو روند کر قصہ ختم کیا
~~~
پھر یوں ہوا کہ ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا
ثابت ہوا کہ لازم و ملزوم کچھ نہیں
~~~
تیری تلاش میں گم ھو گئے سبھی راستے
میں ایسی راہ پہ ھوں جو کہیں نہیں جاتی
~~~
مجھے محبت ان تمام حروف سے ہے
جو تمہارے نام میں اتے ہیں
~~~
ایک ہی شخص کے سَر سے ہم نے وَار دیے
ویسے بھی تو خواب پڑے تھے آنکھوں میں
~~~
وہ جو گزرے تھے تیرے ساتھ
وہی لمحے میری حیات تهے
~~~
ابھی تو چند لفظوں میں سمیٹا ہے تجھے میں نے
ابھی میری کتابوں میں تیری تفسیر باقی ہے
~~~
کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں
تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں
اک دوست ہے کچا پکا سا
اک جھوٹ ہے آدھا سچا سا
اک خواب ادھورا پورا سا
اک پھول ہے روکھا سوکھا سا
اک سپنا ہے بن سوچا سا
اک اپنا ہے ان دیکھا سا
اک رشتہ ہے انجانا سا
حقیقت میں افسانا سا
کچھ پاگل سا دیوانا سا
بس اک بہانا اچھا سا
جیون کا ایسا ساتھی ہے
جو دور ہو تو کچھ پاس نہیں
کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں
تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں