data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Sunday, 30 August 2026

Mujhe apna samjha tha to akela Nahi Karna tha

 





مجھے اپنا سمجھا تھا تو اکیلا نہیں کرنا تھا
تمہیں دنیا کے لیے مجھ سے کنارہ نہیں کرنا تھا

میں جو ٹوٹا تھا تو تم سے ہی جڑا رہتا آخر
مجھ کو لوگوں کی طرح تم نے پرایا نہیں کرنا تھا

میں نے دنیا سے تمہیں چھین کے اپنا سمجھا تھا
تم نے دنیا کی طرف پھر سے اشارہ نہیں کرنا تھا

مری دیوانگی اک روز سمجھ آتی تمہیں
مجھے ہر شخص کی نظروں کا تماشا نہیں کرنا تھا

محبت میں خسارہ بھی گوارا تھا مجھے لیکن
تمہیں مجھ سے محبت میں خسارہ نہیں کرنا تھا

میں اگر پاگل بھی ہوتا تو تمہارا ہی رہتا
تم نے لوگوں کے لیے مجھ کو بے سہارا نہیں کرنا تھا

اب جو پتھر بھی پڑے، مجھ کو گلہ کیا ہوتا
تم نے پتھر بھی اٹھائے تو اشارہ نہیں کرنا تھا




Sunday, 2 August 2026

میں اسکو بھول بھی جاتا تو اور کیا کرتا



میں اُس کو بھول بھی جاتا تو اور کیا کرتا
وہ ایک شخص میرے بعد بھی میرے ساتھ رہا
وہ جس کو چھوڑ کے دنیا کی بھیڑ میں آیا
وہی خیال میرا بن کے ناخدا ساتھ رہا
بچھا تھا دشتِ تمنا میں ہر طرف جادو
میں اپنے آپ سے بھاگا، تو دل سدا ساتھ رہا
وہ ہجر کی کوئی شب تھی کہ زندگی کا سفر
چراغ بجھ بھی گیا، دل کا مہر و ماہ ساتھ رہا
عدو کے تیر تو سینے پہ جھیل لیتا میں
مگر وہ زخم جو اپنوں سے تھا ملا، ساتھ رہا
میں اپنے آپ سے لڑتا رہا تمام ہی عمر
میرے وجود میں اک شخص بے سبب ساتھ رہا
عجیب موڑ پہ لائی تھی زندگی مجھ کو
میں جس طرف بھی گیا، میرا خدا ساتھ رہا
نیازؔ! شہرِ سخن میں جو کچھ ملا مجھ کو
وہ خونِ دل تھا جو بن کر میری صدا ساتھ رہا

Naam oska na lia phir bhi sabhi ko maloom tha, wo aik he shakhs to mere hr sukhan Ka mafhoom tha

 غزل

نام اس کا نہ لیا، پھر بھی سبھی کو معلوم تھا
وہ ایک ہی شخص تو میرے ہر سخن کا مفہوم تھا

میں اپنے ہی وجود سے اب دور جا کے یہ سمجھا
جسے ڈھونڈتا تھا، وہ مرے دل کا بس اک موہوم تھا

عجیب رنج تھا، دریا بھی پیاس لکھتا رہا یہاں 
عجیب بخت تھا، صحرا بھی تشنہ لب مغموم تھا

وہ میرے سامنے بیٹھا رہا تمام شب
مگر جو کہنا تھا، لفظوں کے درمیاں معدوم تھا

کسی نے پوچھ لیا، عشق کی حقیقت ہے آخر کیا؟
میں مسکرا نہ سکا، بس میری آنکھ کا ہر اشک مظلوم تھا

زمانہ دیتا رہا مجھ کو ہر قدم پر نئے زخم
مرا نصیب ہی گویا خوشیوں سے محروم تھا

ؔنیاز! شعر نہیں، خونِ جگر مانگتی ہے غزل
قلم تو ہاتھ میں تھا، دل کا حوصلہ ہی کچھ معصوم تھا

Ye kis Dil pe sakoot-e-azal utara hai k aik naam he bas ab Tamam chara hai

 غزل

یہ کس نے دل پہ سکوتِ ازل اُتارا ہے
کہ ایک نام ہی بس اب تمام چارا ہے

میں اُس کے ہجر کو تقدیر کہہ نہیں سکتا
یہ زخم، زخم نہیں، وقت کا خسارا ہے

کبھی تو یوں ہو کہ خاموشیاں سخن بن جائیں
لبوں کو جنبش نہ ہو، سب کچھ آشکارا ہے

وہ ایک شخص کہ جس پر یقیں بھی لازم تھا
اسی کے ہاتھ میں آئینہ پارہ پارہ ہے

میں اپنے درد کو اظہار دے تو دوں لیکن

ہر ایک لفظ پہ اک عمر کا اجارہ ہے

نہ جیتنے کی تمنا، نہ ہارنے کا ملال
یہ عشق کھیل نہیں، زیست کا کنارا ہے

ہزار شہر بسائے گئے مرے اندر
میں جسکو ڈھونڈ رہا ہوں، وہی دوبارہ ہے

ؔنیاز، شعر اگر صرف شعر رہ جائے
تو جان لیجیے ابھی فاصلہ گوارا ہے

Kisi ne pooch Lia, ishq ki haqeeqat kya, main Der tak ma likhun, phir agr likhun to tu


مرے وجود کا حاصل اگر لکھوں، تو تُو
میں اپنی عمر کا آخری سفر لکھوں، تو تُو

ہزار نام تھے دنیا کے ہر تعلق کے
مگر وفا کا فقط ایک حرف لکھوں، تو تُو

جو روشنی بھی مرے بعد اس جہاں میں رہے
میں اپنے نام کے نیچے اثر لکھوں، تو تُو

کسی نے پوچھ لیا، عشق کی حقیقت کیا
میں دیر تک نہ لکھوں، پھر اگر لکھوں، تو تُو

یہ کیسی پیاس ہے، دریا بھی جس سے کم نکلے
میں تشنگی کا اگر ہم سفر لکھوں، تو تُو

زمانہ مجھ سے میرے خواب کی دلیل مانگے
میں اپنی آنکھ کا سارا ہنر لکھوں، تو تُو

ؔنیاز، لفظ میرے اختیار میں کب تھے
جو دل نے صاف لکھا، معتبر لکھوں، تو تُو

Nahin koi tujh sa zamane mein, Jana! Tujhe dahr ki hr ada likhun ga

قلم سے میں تیری صدا لکھوں گا

سکوتِ شبِ ابتدا لکھوں گا


جہاں عمر نے زخم بوئے ہیں دل میں

وہیں عشق کو میں دعا لکھوں گا


جو تیرے ہی نام سے روشن ہوئی ہے

میں اس تیرگی میں ضیا لکھوں گا


اگر ہجر نے توڑ ڈالا ہے دل کو

شکستِ دلِ باوفا لکھوں گا


!نہیں کوئی تجھ سا زمانے میں جاناں

تجھے دہر کی ہر ادا لکھوں گا


زمانہ جو پوچھے گا، کیا ہے محبت؟

میں اپنے ہی دل کا پتہ لکھوں گا


فنا بھی مقدر اگر ہو گئی

 تومیں خوں سے تیرا نقشِ پا لکھوں گا


نیاز! عمر بھر کا یہی ہے خلاصہ

میں اک شخص کو اپنا خدا لکھوں گا 

Main Apne alfaz mein Teri he roshni likhun ga

غزل


میں اپنے الفاظ میں تیری ہی روشنی لکھوں گا

ہر ایک خواب کی تعبیر میں خوشی لکھوں گا


یہ دل جو عمر بھر تنہائیوں میں جلتا رہا

میں اس کے ہر ورق پر تیری زندگی لکھوں گا


جہاں بھی تیرے تبسم کی ایک  کرن اترے گی

میں اس فضا کو محبت کی آگہی لکھوں گا


اگر زمانہ میرے عشق پر سوال کرے گا

میں اپنے صبر کو سب سے بڑی گواہی لکھوں گا


تیری وفا کی مہک جب بھی چھوئے گی مجھ کو

میں اپنی سانس کو خوشبو کی بندگی لکھوں گا


نہ تاج چاہیئے مجھ کو، نہ تخت کی خواہش

میں تیری چاہت کو اپنی بادشاہی لکھوں گا


اگر کبھی بھی اندھیروں کا راج پھیل گیا

میں اپنے خون سے امید کی لَو ہی لکھوں گا


جو لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں عشق کی تعریف

میں تیرے نام کو اس کی سادگی لکھوں گا


ؔنِیاز، لفظ اگر ساتھ دے گئے مجھ کو

میں اپنی ہر دعا میں اُس کی خوشی لکھوں گا

Tuesday, 7 July 2026

Wo Jin k pas dolat ho wo Kar lete Hain tabeerein

وہ جن کے پاس دولت ہو وہ کرلیتے ہیں تعبیریں 

غریبوں کے مقدر ہمیشہ خواب رہتےہیں 

2 line sad poetry

سمیٹ لے وہ منافع جو تیرا بنتا ہے 

ادھر دھکیل خسارے ،حساب رہنے دیں 


~~~


‏کتنے ہی برس پُھونک دیئے ہم نے خُوشی سے

اے دل !! تیرے اِک لمحہِ آباد کے پیچھے 


~~~


اب جو اداس طبعیت ہے ، رونا کیسا!

پہلے بھی میری کوئی شام سہانی کب تھی


~~~


میرے بے ربط خیالات میں کیا رکھا ہے 

 میں تو پاگل ہوں میری بات میں کیا رکھا ہے 


 باندھ رکھا تیری یاد نے ماضی سے مجھے 

 ور نہ گذرے ہوئے لمحات میں کیا رکھا ہے 


میری تکمیل تیری ذاتِ سے ہی ممکن ہے 

تو الگ ہو تو میری ذات میں کیا رکھا ہے

Hisab e umar ka itna sa goshwara hai, tumhe Nikal k dekha to sab khasara hai

حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے

تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے


کسی چراغ میں ہم ہیں کسی کنول میں ہو تم

کہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا ہے


وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشے میں

تمام عمر کی فرقت ہمیں گوارا ہے


ہر اک صدا جو ہمیں بازگشت لگتی ہے

نجانے ہم ہیں دوبارہ کہ یہ دوبارہ ہے


وہ منکشف مری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں

ہر ایک حُسن کسی حُسن کا اشارہ ہے


عجب اصول ہیں اس کاروبارِ دُنیا کے

کسی کا قرض کسی اور نے اُتارا ہے


کہیں پہ ہے کوئی خُوشبو کہ جس کے ہونے کا

تمام عالمِ موجود استعارا ہے


نجانے کب تھا! کہاں تھا مگر یہ لگتا ہے

یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گزارا ہے


یہ دو کنارے تو دریا کے ہو گئے ، ہم تم!

مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارا ہے


امجد اسلام امجد