مرے وجود کا حاصل اگر لکھوں، تو تُو
میں اپنی عمر کا آخری سفر لکھوں، تو تُو
ہزار نام تھے دنیا کے ہر تعلق کے
مگر وفا کا فقط ایک حرف لکھوں، تو تُو
جو روشنی بھی مرے بعد اس جہاں میں رہے
میں اپنے نام کے نیچے اثر لکھوں، تو تُو
کسی نے پوچھ لیا، عشق کی حقیقت کیا
میں دیر تک نہ لکھوں، پھر اگر لکھوں، تو تُو
یہ کیسی پیاس ہے، دریا بھی جس سے کم نکلے
میں تشنگی کا اگر ہم سفر لکھوں، تو تُو
زمانہ مجھ سے میرے خواب کی دلیل مانگے
میں اپنی آنکھ کا سارا ہنر لکھوں، تو تُو
ؔنیاز، لفظ میرے اختیار میں کب تھے
جو دل نے صاف لکھا، معتبر لکھوں، تو تُو
No comments:
Post a Comment