data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Sunday, 2 August 2026

Kisi ne pooch Lia, ishq ki haqeeqat kya, main Der tak ma likhun, phir agr likhun to tu


مرے وجود کا حاصل اگر لکھوں، تو تُو
میں اپنی عمر کا آخری سفر لکھوں، تو تُو

ہزار نام تھے دنیا کے ہر تعلق کے
مگر وفا کا فقط ایک حرف لکھوں، تو تُو

جو روشنی بھی مرے بعد اس جہاں میں رہے
میں اپنے نام کے نیچے اثر لکھوں، تو تُو

کسی نے پوچھ لیا، عشق کی حقیقت کیا
میں دیر تک نہ لکھوں، پھر اگر لکھوں، تو تُو

یہ کیسی پیاس ہے، دریا بھی جس سے کم نکلے
میں تشنگی کا اگر ہم سفر لکھوں، تو تُو

زمانہ مجھ سے میرے خواب کی دلیل مانگے
میں اپنی آنکھ کا سارا ہنر لکھوں، تو تُو

ؔنیاز، لفظ میرے اختیار میں کب تھے
جو دل نے صاف لکھا، معتبر لکھوں، تو تُو

No comments:

Post a Comment