data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Monday, 7 September 2026

wo shakhs kya gaya k mera dil badal gaya

غزل

وہ شخص کیا گیا کہ مرا دل بدل گیا

اک گھر تھا میرے اندر، وہ یکسر اجڑ گیا

جس کو تمام عمر کا حاصل سمجھ لیا

وہ ایک مختصر سا تعلق نکل گیا

میں اس کے بعد خود سے بھی ملتا نہیں 

وہ مجھ سے کیا بچھڑا، مرا رستہ بدل گیا

میں اپنے زخم لے کے زمانے میں ہنس دیا

تنہائی میں گیا تو مرا ضبط پگھل گیا

وہ سامنے بھی آیا تو کچھ کہہ نہ پائے ہم

جو عمر بھر نہ کہہ سکے، آنکھوں سے بہہ گیا

اک عمر جس کے نام کی دھڑکن سنبھال رکھی

وہ نام کیا لیا کہ مرا دل مچل گیا

میں سوچتا تھا ہجر میں مر جاؤں گا مگر

وہ دن بھی جیسے تیسے، مرے سر سے ٹل گیا

اب اس سے کیا گلہ کہ وہ میرا نہیں رہا

جتنا تھا میرے ساتھ، وہ اتنا ہی مل گیا

میں لوٹ کر گیا بھی تو کیا دیکھتا وہاں

دیوار و در وہی تھے، مرا گھر بدل گیا

اک بات آخری تھی جو ہونٹوں پہ رہ گئی

وہ شخص جا چکا تھا، مرا وقت نکل گیا

میں بھولنے چلا تھا اسے ایک عمر بعد

اک موڑ پر وہ یاد آیا، ارادہ بدل گیا

نیاز یہ عشق بھی عجیب امانت تھا میرے پاس

وہ شخص تو چلا گیا، کچھ مجھ میں رہ گیا 

wo mere dil ko bhi ik roz madina bana deta hai

 

غزل

وہ مرے دل کو بھی اک روز مدینہ بنا دیتا ہے
حرفِ سادہ کو جو وہ رازِ سکینہ بنا دیتا ہے

کس کی ہمت ہے کہ ٹکرا کے مٹا دے مجھ کو
میری مٹی کو مرا عشق گنجینہ بنا دیتا ہے

موجِ طوفاں کا کوئی خوف نہیں رہتا پھر
عزمِ راسخ کڑی ریتوں کو سفینہ بنا دیتا ہے

چاکِ دامن کی یہ وحشت تو بہت عام سی ہے
شوقِ صادق ہی مرے زخم کو سینہ بنا دیتا ہے

عقل حیرت سے فقط دیکھتی رہ جاتی ہے
دردِ دل شیشۂ جاں کو بھی نگینہ بنا دیتا ہے

میں تو خاموش ہی رہتا ہوں فغاں کے بدلے
میرا صبر آہ کو بھی حرفِ قرینہ بنا دیتا ہے

جس کے چہرے پہ نیازؔ! حرفِ حقیقت ہو عیاں
وقت اُس شخص کو اس دہر کا آئینہ بنا دیتا ہے

talatum mein bhi jo sahil ka manzar badalta hai

 

غزل

تلاطم میں بھی جو ساحل کا منظر بدلتا ہے
مرا دل دیکھ کر اُس چشم کا تیور بدلتا ہے

ہمیں معلوم ہے دنیا کی اس بستی کا ہر رستہ
مسافر تھک بھی جائے تو کہاں رہبر بدلتا ہے

ستارے توڑ لانے کی تمنا کس کو تھی، لیکن
وہ میرے پاس آنے کو زمانہ بھر بدلتا ہے

اگر وہ ایک پل کو بھی مری تنہائی میں آئے
سکوتِ شب کا سارا رنگ، سارا منظر بدلتا ہے

عدو کی کیا بساطِ جنگ جو ہم کو ڈرا پائے
صفِ اول میں جب اپنوں کا ہی لشکر بدلتا ہے

یہ بازی عشق کی ہے، اس میں جیتے گا وہی

جو بازی ہار کر بھی دل کا اپنا ڈر بدلتا ہے

نیازؔ! اس شہرِ بےحس میں سخن کی لاج رکھنے کو
قلم جب ہاتھ میں آئے، مرا مقدر بدلتا ہے

Thursday, 3 September 2026

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں ye hai maikada yahan rind hai

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے

یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے


جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو

یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے


کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے

مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یے تو میکدے کا نظام ہے


یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے

جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے


تجھے اپنے حسن کا واسطہ میرے شوق دید پہ رحم کھا

ذرا مسکرا کے نقاب اٹھا کہ نظر کو شوق سلام ہے


نہ سنا تو حور و قصور کی یہ حکایتیں مجھے واعظا

کوئی بات کر در یار کی در یار ہی سے تو کام ہے


نہ تو اعتکاف سے کچھ غرض نہ ثواب و زہد سے واسطہ

تری دید ایسی نماز ہے نہ سجود ہے نہ قیام ہے


یہ درست کہ عیب ہے مے کشی یہ بجا کہ بادہ حرام ہے

مگر اب سوال یہ آ پڑا کہ تمھارے ہاتھ میں جام ہے


جو اٹھی تو صبح دوام تھی جو جھکی تو شام ہی شام تھی

تری چشم مست میں ساقیا مری زندگی کا نظام ہے


مرا فرض ہے کہ پڑا رہوں تری بارگاہ میں ساقیا

کوئی تشنہ لب ہے کہ سیر ہے یہی دیکھنا ترا کام ہے


اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر

کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے


جگر مراد آبادی