وہ جن کے پاس دولت ہو وہ کرلیتے ہیں تعبیریں
غریبوں کے مقدر ہمیشہ خواب رہتےہیں
وہ جن کے پاس دولت ہو وہ کرلیتے ہیں تعبیریں
غریبوں کے مقدر ہمیشہ خواب رہتےہیں
سمیٹ لے وہ منافع جو تیرا بنتا ہے
ادھر دھکیل خسارے ،حساب رہنے دیں
~~~
کتنے ہی برس پُھونک دیئے ہم نے خُوشی سے
اے دل !! تیرے اِک لمحہِ آباد کے پیچھے
~~~
اب جو اداس طبعیت ہے ، رونا کیسا!
پہلے بھی میری کوئی شام سہانی کب تھی
~~~
میرے بے ربط خیالات میں کیا رکھا ہے
میں تو پاگل ہوں میری بات میں کیا رکھا ہے
باندھ رکھا تیری یاد نے ماضی سے مجھے
ور نہ گذرے ہوئے لمحات میں کیا رکھا ہے
میری تکمیل تیری ذاتِ سے ہی ممکن ہے
تو الگ ہو تو میری ذات میں کیا رکھا ہے
حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے
کسی چراغ میں ہم ہیں کسی کنول میں ہو تم
کہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا ہے
وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشے میں
تمام عمر کی فرقت ہمیں گوارا ہے
ہر اک صدا جو ہمیں بازگشت لگتی ہے
نجانے ہم ہیں دوبارہ کہ یہ دوبارہ ہے
وہ منکشف مری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں
ہر ایک حُسن کسی حُسن کا اشارہ ہے
عجب اصول ہیں اس کاروبارِ دُنیا کے
کسی کا قرض کسی اور نے اُتارا ہے
کہیں پہ ہے کوئی خُوشبو کہ جس کے ہونے کا
تمام عالمِ موجود استعارا ہے
نجانے کب تھا! کہاں تھا مگر یہ لگتا ہے
یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گزارا ہے
یہ دو کنارے تو دریا کے ہو گئے ، ہم تم!
مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارا ہے
امجد اسلام امجد
جب ان سے مری پہلی ملاقات ہوئی تھی
اس دن ہی قیامت کی شروعات ہوئی تھی
اتنا ہے مجھے یاد کبھی بات ہوئی تھی
رسماً ہی سہی ان سے ملاقات ہوئی تھی
خط پڑھ کے خفا تو ہوا اور اس نے کیا کہا
قاصد مرے بارے میں کوئی بات ہوئی تھی
کچھ یاد نہیں بازیٔ الفت کا نتیجہ
تم جیت گئے تھے کہ ہمیں مات ہوئی تھی
میں ہوں وہ رہ عشق میں مظلوم مسافر
منزل کے قریب آ کے جسے رات ہوئی تھی
ہاں یاد ہے مجھ کو ترے گیسو کا بکھرنا
برسا تھا یہ بادل کبھی برسات ہوئی تھی
محروم ہوں اب خواب میں بھی اس کی جھلک سے
جس رخ کی زیارت مجھے دن رات ہوئی تھی
یہ چاند یہ تارے بھی بتاتے ہیں چمک کر
تقسیم ترے حسن کی خیرات ہوئی تھی
بیٹھے تھے سر بزم نصیرؔ ان کے قریں ہم
کل رات کی یہ بات ہے کل رات ہوئی تھی
پیر نصیرالدین نصیرؔ رحمتہ اللہ علیہ