سمیٹ لے وہ منافع جو تیرا بنتا ہے
ادھر دھکیل خسارے ،حساب رہنے دیں
~~~
کتنے ہی برس پُھونک دیئے ہم نے خُوشی سے
اے دل !! تیرے اِک لمحہِ آباد کے پیچھے
~~~
اب جو اداس طبعیت ہے ، رونا کیسا!
پہلے بھی میری کوئی شام سہانی کب تھی
~~~
میرے بے ربط خیالات میں کیا رکھا ہے
میں تو پاگل ہوں میری بات میں کیا رکھا ہے
باندھ رکھا تیری یاد نے ماضی سے مجھے
ور نہ گذرے ہوئے لمحات میں کیا رکھا ہے
میری تکمیل تیری ذاتِ سے ہی ممکن ہے
تو الگ ہو تو میری ذات میں کیا رکھا ہے
No comments:
Post a Comment