data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Saturday, 27 June 2026

Mere wajud k yousaf ye kese mumkin hai

 



 


میرے وجود کے یوسف یہ کیسے ممکن ہے 
کہ دل میں قحط پڑے اور تجھے پتہ نہ چلے

~~~

میرے وجود کے یوسف یہ کیسے ممکن ہے 
کہ دل میں قحط پڑے اور تجھے پتہ نہ چلے

~~~

آج کل وہ مجھے کچھ یوں دیکھتا ھے
جیسے یعقوب ھے اور کرتے پہ خوں دیکھتا ھے

~~~

مثالِ دستِ ذلیخاء تپاک چاہتا ہے 
یہ دل بھی دامنِ یوسف ہے چاک چاہتا ہے 


~~~


2 line urdu shairi, 2 line urdu poetry

کوئی منطق کوئی دلیل نہیں تو ضروری تو بس ضروری ہے 


~~~

کچھ لوگ سفرکےلیےہوتےنہیں موزوں

کچھ رستےکٹتےنہیں تنہا،اسےکہنا


~~~


گُل فروشوں کو کیسے سمجھاوں

 اُس کی خوشبو اُسی سے آتی ہے


~~~


میں اپنے سارے مسلوں میں اکیلی رہی 

مجھے کسی نے نہیں کہا میں ہوں نا 


~~~


‏ضروریاتِ جہاں ہم سے پوچھنے والے

‏تجھے یہ کیسے بتائیں کہ تو ضروری ہے


‏~~~


بدنصیبی کی حد پوچھتے ہو تو سنو 

میرے پسندیدہ بھی مجھ سے تنگ آ گئے ہیں


~~~


- ‏ایک جھلک دیکھنا ہی اب کافی نہیں

وہ مجھے روبرو، ہوبہو، جابجا چاہیئے 


~~~


جب بھی آیا ترا خیال مجھے 

دل نے مجھ سے کہا سنبھال مجھے


~~~


کوئی اپنا نہیں اپنے سوا

دوسرا۔ دوسرا ہی ہوتا ہے


~~~


میں انا کی ایک نئی کہکشاں بناؤں گا 

جہاں تیرے نام کے ستارے بھی نہیں ائیں گے


اتنی بیزار ہیں آنکھیں کہ خدا جانتا ہے

ہم کو اب خواب تمھارے بھی نہیں آئیں گے 


~~~

کبھی دلبر کبھی دشمن کبھی دلدار ہو جانا

کہاں سے تم نے سیکھا ہے بڑا بیزار ہو جانا


کبھی اپنا بنا لینا کبھی دامن چھڑا لینا

کبھی آساں کبھی مشکل کبھی دشوار ہو جانا


کبھی مل کے رقیبوں سے ہمارے حال پہ ہنسنا

کبھی میری محبت میں گل گلزار ہو جانا


~~~


یہی دل تھا کے ترستا تھا مراسم کے لیے

 اب یہیں ترک تعلق کے بہانے مانگے


~~~


تیری خاطر سبھی نقصان اٹھا سکتا ہوں

 اور اس بات پہ قران اٹھا سکتا ہوں 

ہم سفر بننے کے لائق تو نہیں پھر بھی

 ساتھ لے چل تیرا سامان اٹھا سکتا


~~~

#اردوشاعری #urdupoetry #urdughazal #2lineurdupoetry


Teri ankho ki saholat muyassar ho jis ko

 تیری انکھوں کی سہولت ہو میسر جس کو

 وہ بھلا چاند ستاروں کو کہاں دیکھے گا


رو برو عشق ہو اور عشق بھی تیرے جیسا پھر

 کوئی دل کے خساروں کو کہاں دیکھے گا

Aam se chehro pr Bhi ishq utarta hai

عام سے چہروں پہ بھی عشق اترتا ہے 

کہانیاں فقط شہزادیوں کی نہیں ہوتی 

تم کسی سیارے کی ہجرت زدہ لگتی ہو 

ایسی انکھیں زمین زادیوں کی نہیں ہوتی

Friday, 26 June 2026

Apne he ehd k khamosh masiha hum he to hain

 غزل

وقت کے زخم کو سینے میں چھپائے ہم ہی تو ہیں
اپنے ہی عہد کے خاموش مسیحا ہم ہی تو ہیں

جس نے ہر دور کے چہروں کو پرکھ کر دیکھا
اس نگاہِ غمِ فردا کا اجالا ہم ہی تو ہیں

شہر آباد ہوئے، دل کی گلی ویران رہی
اس تمدّن کے خسارے کا پتا ہم ہی تو ہیں

خاک اُڑتی رہی صدیوں سے سرِ راہ مگر
اپنی مٹی سے جُڑا ایک شجر، ہم ہی تو ہیں

جس طرف دیکھئے بازار سجے ہیں ہر سو
بِک نہ پائے جو کبھی، ایسی متاع ہم ہی تو ہیں

وقت جب اپنے ہی بچوں کو نگلنے لگا
اس کے جبڑے میں پھنسا آخری لمحہ ہم ہی تو ہیں

لوگ کردار بدلتے رہے موسم کی طرح

اپنی آنکھوں میں لیے ایک ہی چہرہ ہم ہی تو ہیں

کل کی بنیاد میں شامل ہے لہو جن کا ابھی
آنے والے کسی عہد کا نقشہ ہم ہی تو ہیں

موت بھی ہم سے چراغوں کی طرح مل نہ سکی
رات بھر جلتے رہے، صبح کا وعدہ ہم ہی تو ہیں

جب قیامت میں کھلے گی یہ کتابِ ایّام
سرخرو رہنے کی اک آخری منشاء ہم ہی تو ہیں


نیازعلی 

Waqt ki dhoop mein chehre thy badal jany wale


وقت کی دھوپ میں چہرے تھے بدل جانے والے

کون تھے اپنے، کہاں تھے وہ نبھانے والے


روشنی بانٹنے نکلا تو یہ جانا میں نے

سب سے آگے مرے اپنے تھے چراغ بجھانے والے


ہم نے ہر زخم کو خاموش دعا سمجھا تھا

وہ ہی نکلے مرے سینے کو دکھانے والے


ہم نے بازارِ وفا خوب سجایا لیکن

سب سے پہلے تھے وہی عہد بھلانے والے


تاج و تخت اور یہ زر، اہلِ ہوس کو مبارک

ہم تو مٹی ہیں، سو مٹی میں سما جانے والے


لفظ سچ بولنے لگ جائیں تو ڈر لگتا ہے

شہر بھر میں ہیں یہاں سچ کو دبانے والے


وقت کے ساتھ کئی رشتے دھواں ہو بیٹھے

ایک ہم تھے کہ رہے دل ہی جلانے والے


خاک سے پوچھ کہ انجامِ تکبر کیا ہے

خاک ہی ڈھونڈتی پھرتی ہے اکڑ جانے والے


درد جب حد سے گزرا تو ہنر بن بیٹھا

ہم نہ تھے اشک کے بازار سجانے والے


ہم نے سچ کہہ دیا، بس اتنی خطا تھی اپنی

ورنہ سب تھے یہاں دربار میں جانے والے


---

نیازعلی 

Ameer e shehr har haal mein haq Dar Lagta hai

یہاں ہر شخص اپنے فائدے کا یار لگتا ہے

محبت کم، ضرورت کا ہی بازار لگتا ہے

 

جو اپنے تھے، وہی سب سے زیادہ زخم دیتے ہیں

مجھے اب گھر بھی دشمن کا کوئی دربار لگتا ہے

 

تعلق رکھ تو لیتے ہیں سبھی مطلب نکلنے تک

یہاں ہر رشتہ کاغذ کا ہی اخبار لگتا ہے

 

غریبِ شہر سچ بولے تو جھوٹا ہی سمجھتے ہیں

امیرِ شہر ہر حال میں حق دار لگتا ہے

 

یہاں احساس کی قیمت نہیں باقی زمانے میں

ہر اک جذبہ کسی سودے کا اظہار لگتا ہے

 

وفاداری، خلوص، عشق — سب لفظوں کی باتیں ہیں

حقیقت میں تو ہر چہرہ اداکار لگتا ہے

 

میں اپنے آپ سے ملنے سے بھی ڈرتا ہوں اب اکثر

مجھے آئینہ بھی جیسے کوئی غدار لگتا ہے


نیازعلی 

Zindagi tere taqazon ne thaka dala boht

ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا ہے بہت

لوگ سمجھتے ہیں ہمیں درد نے ڈھالا ہے بہت


اب کسی شخص پہ کھلتا ہی نہیں دل اپنا

وقت نے ہم کو اکیلے میں سنبھالا ہے بہت


ایک چہرہ تھا جو آنکھوں میں ٹھہرتا ہی رہا

دل نے اُس شخص کو خوابوں میں اُتارا ہے بہت


زندگی تیرے تقاضوں نے تھکا ڈالا مگر
دلِ ناداں کو ابھی جینے کا ارماں ہے بہت


 لوگ سورج کی طرح وقت پہ ڈھل جاتے ہیں

 ہم نے ہر دور میں اپنوں کو بدلتے دیکھا ہے بہت


کوئی لمحہ تو سکون ایسا عطا ہو مجھ کو

 دل نے ہر سانس میں طوفان کو جھیلا ہے بہت


 اب محبت بھی تجارت کی طرح لگتی ہے 

ہم نے اس شہر کا دستور پرکھا ہے بہت


نیازعلی 

Teri yado ki aziyat Bhi Kam nhi

دل میں اک شور سا رہتا ہے رات بھر تنہا

 کون ہے جو مجھے کرتا ہے رات بھر تنہا


شہر کے لوگ تماشائی بن کے دیکھتے ہیں

ایک دیوانہ جو پھرتا ہے رات بھر تنہا


تیری یادوں کی اذیت بھی کم نہیں لیکن

دل یہی سوچ کے جیتا ہے رات بھر تنہا


ایک مدت سے کوئی پاس نہیں بیٹھا میرے

 میرا سایہ ہی تو رہتا ہے رات بھر تنہا


نیازعلی 


 چاند خاموش، فضا خاموش، ستارے گم صم

کون پھر مجھ سے یہ کہتا ہے رات بھر تنہا


 اپنے اندر کئی آوازیں لیے پھرتا ہوں

 کون اس درد کو سمجھا ہے رات بھر تنہا


 لوگ ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں لمحوں کی طرح

 کون کس کا یہاں ہوتا ہے رات بھر تنہا۔ 

Ab to bazar mein ehsas Bhi bik jata hai

اب تو بازار میں احساس بھی بِک جاتا ہے

اور سچ ایسا کہ اخبار میں چھپتا ہی نہیں


لوگ چہروں کو سجائے ہوئے پھرتے ہیں بہت

کوئی اندر کی شکستوں کو سمجھتا ہی نہیں


ہر طرف شورِ ترقی ہے، تمدّن، تہذیب

آدمی اپنے ہی سایے سے نکلتا ہی نہیں


کتنے نعروں نے یہاں خون کو جائز ٹھہرایا

کوئی مقتول عدالت میں بلاتا ہی نہیں


جس کے ہاتھوں میں زمانے کی معیشت ہے ابھی

وہ کسی بھوک کو اعداد سے بڑھتا ہی نہیں


اب تو مذہب بھی سیاست کی زباں بولتا ہے

کوئی سجدے میں بھی پہلے سا پگھلتا ہی نہیں


لوگ تاریخ کو فتحوں کی کتابیں سمجھیں

کوئی برباد گھروں تک کبھی پہنچتا ہی نہیں


ہر طرف خوف کی دیوار کھڑی ہے ایسی

آدمی چیخ بھی دے تو کوئی سنتا ہی نہیں


جس نے ایٹم کی رگوں تک کو کھول کر دیکھ لیا

اپنے اندر کے اندھیرے میں اترتا ہی نہیں


اب مشینوں کو بھی احساس سکھایا جا رہا ہے

اور انسان کسی انسان سے ملتا ہی نہیں

نیازعلی خان 


لوگ کہتے ہیں کہ اب وقت بہت آگے ہے

وقت انسان کے اندر سے گزرتا ہی نہیں


اب تو بازار میں احساس بھی بِک جاتا ہے

اور سچ ایسا کہ اخبار میں چھپتا ہی نہیں 

Jin ankho ne dekhy hon tere khwab hmesha

جن آنکھوں نے دیکھے ہوں ترے خواب ہمیشہ 

اے دوست ان آنکھوں کو رلایا نہیں کرتے 

ہر شخص کے دامن میں سہارا نہیں ہوتا 

ہر شخص کو یوں چھوڑ کر جایا نہیں کرتے 

2 line urdu shairi, 2 line poetry

 




تم پارسا ہو مجھ سے گریزاں رہو کہ میں

بھٹکا ہوا خیال ہوں بھٹکا نہ دُوں تمہیں


~~~


‏تم کہاں تک کرو گے دلجوئی 

میں تو اکثر اداس رہتا ہوں


~~~


حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے 

تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے


~~~


میری تکمیل تیری ذات سے ھی ممکن ہے

توالگ ھو تو میری ذات میں کیا رکھا ہے


~~~

اک فقط تجھ سے تغافل نہیں برتا میں نے

 ورنہ ہر ذات سے مفرور ہوئے پھرتے ہیں۔


~~~


پھر یوں ہوا کہ حسرتیں پیروں میں گر پڑیں

پھر میں نے ان کو روند کر قصہ ختم کیا


~~~


پھر یوں ہوا کہ ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا 

ثابت ہوا کہ لازم و ملزوم کچھ نہیں


~~~

‏تیری تلاش میں گم ھو گئے سبھی راستے

میں ایسی راہ پہ ھوں جو کہیں نہیں جاتی


~~~


مجھے محبت ان تمام حروف سے ہے

 جو تمہارے نام میں اتے ہیں


~~~


ایک ہی شخص کے سَر سے ہم نے وَار دیے

ویسے بھی تو خواب پڑے تھے آنکھوں میں


~~~


وہ جو گزرے تھے تیرے ساتھ 

وہی لمحے میری حیات تهے

~~~


ابھی تو چند لفظوں میں سمیٹا ہے تجھے میں نے

ابھی میری کتابوں میں تیری تفسیر باقی ہے


~~~






Tuesday, 23 June 2026

Koi puche tum se kon hoon main



کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں 

تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں

اک دوست ہے کچا پکا سا 

اک جھوٹ ہے آدھا سچا سا

اک خواب ادھورا پورا سا

اک پھول ہے روکھا سوکھا سا

اک سپنا ہے بن سوچا سا

اک اپنا ہے ان دیکھا سا

اک رشتہ ہے انجانا سا

حقیقت میں افسانا سا

کچھ پاگل سا دیوانا سا

بس اک بہانا اچھا سا

جیون کا ایسا ساتھی ہے

جو دور ہو تو کچھ پاس نہیں

کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں

تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں

Teri waqt guzari ne ehsas karwaya mujhe ko


 

Monday, 22 June 2026

Doran e zaat aziyat thi, or tum nhi thy

 دورانِ ذات اذیت تھی۔۔۔۔۔اور تم نہیں تھے

مجھے تمہاری صرورت تھی اور تم نہیں تھے


میں خواب میں تمہیں یک لخت چھونے والا تھا

پھر اس کے بعد حقیقت تھی۔۔۔۔اور تم نہیں تھے


گزرنے والا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔مگر گزار لیا

وہ دن کہ جب ہمیں فرصت تھی۔۔۔۔۔اور تم نہیں تھے

Bas gaya meri ankh mein khwab ki terha

بس گیا میری آ نکھ میں وہ خواب کی طرح 

گزر رھی ھے میری ھر شب عزاب کی طرح 

میرے سامنے سے وہ پھر ایسے گزرے آ ج 

میں لفظ لفظ پڑھوں اسے کتاب کی طرح۔۔ 

Khali pady huwy Hain mere hath dekh lo

خالی پڑے ہوئے ہیں میرے ہاتھ دیکھ لو

کوئی بھی نہیں ہے میرے ساتھ دیکھ لو


میں جن کو دستیاب رہا قلب وجان سے

 جاتے جاتے کہہ گۓ اوقات دیکھ لو


#urdupoetry 

ثم مجھے واقعتاً چھوڑ کے جا سکتے ہو

 Thak Gaye ho to Chod k ja sakte Jo

Tum mujhe waqyatan Chod k ja sakte ho



Tu ne dekha hai kabhi jeet k hara hoa shakhs

 




Hum Apne ap KO aise gawany lagte hain




 

 

Kahan qatil badalte Hain, faqat chehre badalte hain

#اردوشاعری
#urdupoetry


 

Hamesha der Kar deta hoon, ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

 #اردوشاعری





عشق سے پیار سے محبت سے, ishq se pyari se muhabbat se

مل رہے ہو بڑی عقیدت سے

مل رہے ہو بڑی عقیدت سے

خوف آتا ہے اتنی عزت سے

اس نے حیران ہونا سیکھ لیا

میں نے دیکھا ہی اتنی حیرت سے

اس نے مجھ کو بھلا دیا اک دن

اور بھلایا بھی کس سہولت سے

پردہ داروں نے خود کشی کر لی

صحن جھانکا گیا کسی چھت سے

زہر ایجاد ہو گیا اک دن

لوگ مرتے تھے پہلے غیرت سے

اور پھر جنگ چھڑ گئی میری

عشق سے پیار سے محبت سے

ہم زیادہ بگاڑ دیتے ہیں

بچ کے رہنا ہماری صحبت سے

اس کے دل میں اترنے لگتا ہوں

جو مجھے دیکھتا ہے نفرت سے

لوگ کردار بننا چاہتے ہیں

جیسے ممکن ہے سب ریاضت سے

اپنی گردن جھکا کے بات کرو

تم نکالے گئے ہو جنت سے


#urdupoetry