دورانِ ذات اذیت تھی۔۔۔۔۔اور تم نہیں تھے
مجھے تمہاری صرورت تھی اور تم نہیں تھے
میں خواب میں تمہیں یک لخت چھونے والا تھا
پھر اس کے بعد حقیقت تھی۔۔۔۔اور تم نہیں تھے
گزرنے والا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔مگر گزار لیا
وہ دن کہ جب ہمیں فرصت تھی۔۔۔۔۔اور تم نہیں تھے
دورانِ ذات اذیت تھی۔۔۔۔۔اور تم نہیں تھے
مجھے تمہاری صرورت تھی اور تم نہیں تھے
میں خواب میں تمہیں یک لخت چھونے والا تھا
پھر اس کے بعد حقیقت تھی۔۔۔۔اور تم نہیں تھے
گزرنے والا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔مگر گزار لیا
وہ دن کہ جب ہمیں فرصت تھی۔۔۔۔۔اور تم نہیں تھے
بس گیا میری آ نکھ میں وہ خواب کی طرح
گزر رھی ھے میری ھر شب عزاب کی طرح
میرے سامنے سے وہ پھر ایسے گزرے آ ج
میں لفظ لفظ پڑھوں اسے کتاب کی طرح۔۔
خالی پڑے ہوئے ہیں میرے ہاتھ دیکھ لو
کوئی بھی نہیں ہے میرے ساتھ دیکھ لو
میں جن کو دستیاب رہا قلب وجان سے
جاتے جاتے کہہ گۓ اوقات دیکھ لو
#urdupoetry
مل رہے ہو بڑی عقیدت سے
مل رہے ہو بڑی عقیدت سے
خوف آتا ہے اتنی عزت سے
اس نے حیران ہونا سیکھ لیا
میں نے دیکھا ہی اتنی حیرت سے
اس نے مجھ کو بھلا دیا اک دن
اور بھلایا بھی کس سہولت سے
پردہ داروں نے خود کشی کر لی
صحن جھانکا گیا کسی چھت سے
زہر ایجاد ہو گیا اک دن
لوگ مرتے تھے پہلے غیرت سے
اور پھر جنگ چھڑ گئی میری
عشق سے پیار سے محبت سے
ہم زیادہ بگاڑ دیتے ہیں
بچ کے رہنا ہماری صحبت سے
اس کے دل میں اترنے لگتا ہوں
جو مجھے دیکھتا ہے نفرت سے
لوگ کردار بننا چاہتے ہیں
جیسے ممکن ہے سب ریاضت سے
اپنی گردن جھکا کے بات کرو
تم نکالے گئے ہو جنت سے
#urdupoetry