data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Friday, 26 June 2026

Apne he ehd k khamosh masiha hum he to hain

 غزل

وقت کے زخم کو سینے میں چھپائے ہم ہی تو ہیں
اپنے ہی عہد کے خاموش مسیحا ہم ہی تو ہیں

جس نے ہر دور کے چہروں کو پرکھ کر دیکھا
اس نگاہِ غمِ فردا کا اجالا ہم ہی تو ہیں

شہر آباد ہوئے، دل کی گلی ویران رہی
اس تمدّن کے خسارے کا پتا ہم ہی تو ہیں

خاک اُڑتی رہی صدیوں سے سرِ راہ مگر
اپنی مٹی سے جُڑا ایک شجر، ہم ہی تو ہیں

جس طرف دیکھئے بازار سجے ہیں ہر سو
بِک نہ پائے جو کبھی، ایسی متاع ہم ہی تو ہیں

وقت جب اپنے ہی بچوں کو نگلنے لگا
اس کے جبڑے میں پھنسا آخری لمحہ ہم ہی تو ہیں

لوگ کردار بدلتے رہے موسم کی طرح

اپنی آنکھوں میں لیے ایک ہی چہرہ ہم ہی تو ہیں

کل کی بنیاد میں شامل ہے لہو جن کا ابھی
آنے والے کسی عہد کا نقشہ ہم ہی تو ہیں

موت بھی ہم سے چراغوں کی طرح مل نہ سکی
رات بھر جلتے رہے، صبح کا وعدہ ہم ہی تو ہیں

جب قیامت میں کھلے گی یہ کتابِ ایّام
سرخرو رہنے کی اک آخری منشاء ہم ہی تو ہیں


نیازعلی 

No comments:

Post a Comment