غزل
وقت کے زخم کو سینے میں چھپائے ہم ہی تو ہیں
اپنے ہی عہد کے خاموش مسیحا ہم ہی تو ہیں
جس نے ہر دور کے چہروں کو پرکھ کر دیکھا
اس نگاہِ غمِ فردا کا اجالا ہم ہی تو ہیں
شہر آباد ہوئے، دل کی گلی ویران رہی
اس تمدّن کے خسارے کا پتا ہم ہی تو ہیں
خاک اُڑتی رہی صدیوں سے سرِ راہ مگر
اپنی مٹی سے جُڑا ایک شجر، ہم ہی تو ہیں
جس طرف دیکھئے بازار سجے ہیں ہر سو
بِک نہ پائے جو کبھی، ایسی متاع ہم ہی تو ہیں
وقت جب اپنے ہی بچوں کو نگلنے لگا
اس کے جبڑے میں پھنسا آخری لمحہ ہم ہی تو ہیں
لوگ کردار بدلتے رہے موسم کی طرح
اپنی آنکھوں میں لیے ایک ہی چہرہ ہم ہی تو ہیں
کل کی بنیاد میں شامل ہے لہو جن کا ابھی
آنے والے کسی عہد کا نقشہ ہم ہی تو ہیں
موت بھی ہم سے چراغوں کی طرح مل نہ سکی
رات بھر جلتے رہے، صبح کا وعدہ ہم ہی تو ہیں
جب قیامت میں کھلے گی یہ کتابِ ایّام
سرخرو رہنے کی اک آخری منشاء ہم ہی تو ہیں
نیازعلی
No comments:
Post a Comment