اب تو بازار میں احساس بھی بِک جاتا ہے
اور سچ ایسا کہ اخبار میں چھپتا ہی نہیں
لوگ چہروں کو سجائے ہوئے پھرتے ہیں بہت
کوئی اندر کی شکستوں کو سمجھتا ہی نہیں
ہر طرف شورِ ترقی ہے، تمدّن، تہذیب
آدمی اپنے ہی سایے سے نکلتا ہی نہیں
کتنے نعروں نے یہاں خون کو جائز ٹھہرایا
کوئی مقتول عدالت میں بلاتا ہی نہیں
جس کے ہاتھوں میں زمانے کی معیشت ہے ابھی
وہ کسی بھوک کو اعداد سے بڑھتا ہی نہیں
اب تو مذہب بھی سیاست کی زباں بولتا ہے
کوئی سجدے میں بھی پہلے سا پگھلتا ہی نہیں
لوگ تاریخ کو فتحوں کی کتابیں سمجھیں
کوئی برباد گھروں تک کبھی پہنچتا ہی نہیں
ہر طرف خوف کی دیوار کھڑی ہے ایسی
آدمی چیخ بھی دے تو کوئی سنتا ہی نہیں
جس نے ایٹم کی رگوں تک کو کھول کر دیکھ لیا
اپنے اندر کے اندھیرے میں اترتا ہی نہیں
اب مشینوں کو بھی احساس سکھایا جا رہا ہے
اور انسان کسی انسان سے ملتا ہی نہیں
نیازعلی خان
لوگ کہتے ہیں کہ اب وقت بہت آگے ہے
وقت انسان کے اندر سے گزرتا ہی نہیں
اب تو بازار میں احساس بھی بِک جاتا ہے
اور سچ ایسا کہ اخبار میں چھپتا ہی نہیں
No comments:
Post a Comment