data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Friday, 26 June 2026

Waqt ki dhoop mein chehre thy badal jany wale


وقت کی دھوپ میں چہرے تھے بدل جانے والے

کون تھے اپنے، کہاں تھے وہ نبھانے والے


روشنی بانٹنے نکلا تو یہ جانا میں نے

سب سے آگے مرے اپنے تھے چراغ بجھانے والے


ہم نے ہر زخم کو خاموش دعا سمجھا تھا

وہ ہی نکلے مرے سینے کو دکھانے والے


ہم نے بازارِ وفا خوب سجایا لیکن

سب سے پہلے تھے وہی عہد بھلانے والے


تاج و تخت اور یہ زر، اہلِ ہوس کو مبارک

ہم تو مٹی ہیں، سو مٹی میں سما جانے والے


لفظ سچ بولنے لگ جائیں تو ڈر لگتا ہے

شہر بھر میں ہیں یہاں سچ کو دبانے والے


وقت کے ساتھ کئی رشتے دھواں ہو بیٹھے

ایک ہم تھے کہ رہے دل ہی جلانے والے


خاک سے پوچھ کہ انجامِ تکبر کیا ہے

خاک ہی ڈھونڈتی پھرتی ہے اکڑ جانے والے


درد جب حد سے گزرا تو ہنر بن بیٹھا

ہم نہ تھے اشک کے بازار سجانے والے


ہم نے سچ کہہ دیا، بس اتنی خطا تھی اپنی

ورنہ سب تھے یہاں دربار میں جانے والے


---

نیازعلی 

No comments:

Post a Comment