data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Friday, 26 June 2026

Ameer e shehr har haal mein haq Dar Lagta hai

یہاں ہر شخص اپنے فائدے کا یار لگتا ہے

محبت کم، ضرورت کا ہی بازار لگتا ہے

 

جو اپنے تھے، وہی سب سے زیادہ زخم دیتے ہیں

مجھے اب گھر بھی دشمن کا کوئی دربار لگتا ہے

 

تعلق رکھ تو لیتے ہیں سبھی مطلب نکلنے تک

یہاں ہر رشتہ کاغذ کا ہی اخبار لگتا ہے

 

غریبِ شہر سچ بولے تو جھوٹا ہی سمجھتے ہیں

امیرِ شہر ہر حال میں حق دار لگتا ہے

 

یہاں احساس کی قیمت نہیں باقی زمانے میں

ہر اک جذبہ کسی سودے کا اظہار لگتا ہے

 

وفاداری، خلوص، عشق — سب لفظوں کی باتیں ہیں

حقیقت میں تو ہر چہرہ اداکار لگتا ہے

 

میں اپنے آپ سے ملنے سے بھی ڈرتا ہوں اب اکثر

مجھے آئینہ بھی جیسے کوئی غدار لگتا ہے


نیازعلی 

No comments:

Post a Comment