تم پارسا ہو مجھ سے گریزاں رہو کہ میں
بھٹکا ہوا خیال ہوں بھٹکا نہ دُوں تمہیں
~~~
تم کہاں تک کرو گے دلجوئی
میں تو اکثر اداس رہتا ہوں
~~~
حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے
~~~
میری تکمیل تیری ذات سے ھی ممکن ہے
توالگ ھو تو میری ذات میں کیا رکھا ہے
~~~
اک فقط تجھ سے تغافل نہیں برتا میں نے
ورنہ ہر ذات سے مفرور ہوئے پھرتے ہیں۔
~~~
پھر یوں ہوا کہ حسرتیں پیروں میں گر پڑیں
پھر میں نے ان کو روند کر قصہ ختم کیا
~~~
پھر یوں ہوا کہ ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا
ثابت ہوا کہ لازم و ملزوم کچھ نہیں
~~~
تیری تلاش میں گم ھو گئے سبھی راستے
میں ایسی راہ پہ ھوں جو کہیں نہیں جاتی
~~~
مجھے محبت ان تمام حروف سے ہے
جو تمہارے نام میں اتے ہیں
~~~
ایک ہی شخص کے سَر سے ہم نے وَار دیے
ویسے بھی تو خواب پڑے تھے آنکھوں میں
~~~
وہ جو گزرے تھے تیرے ساتھ
وہی لمحے میری حیات تهے
~~~
ابھی تو چند لفظوں میں سمیٹا ہے تجھے میں نے
ابھی میری کتابوں میں تیری تفسیر باقی ہے
~~~

No comments:
Post a Comment