data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">
Showing posts with label Rakib Mukhtar. Show all posts
Showing posts with label Rakib Mukhtar. Show all posts

Sunday, 22 May 2022

ye kab kaha k jee bhar k har kisi ko na dekh

یہ کب کہا ہے کہ جی بھر کے ہر کسی کو نہ دیکھ
سبھی کو دیکھ مگر جاتے اجنبی کو نہ دیکھ

تبھی سے آنکھ کا مرکز زمین ٹھہری ہے
کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ اب کسی کو نہ دیکھ

صدائیں دیتا ہے بپھرا چناب راتوں کو
کہ زندگی سے ہے ملنا تو زندگی کو نہ دیکھ

جو تجھ کو شعر سناتا ہوں بات کرتا ہوں
خدارا بات سمجھ شوق شاعری کو نہ دیکھ

راکب مختار

Wednesday, 18 May 2022

لڑکھڑاتا ہوں تو وہ رو کے لپٹ جاتا ہے


لڑکھڑاتا ہوں تو وہ رو کے لپٹ جاتا ہے
میں نے گرنا ہے تو اس شخص نے مر جانا ہے

#راکب_مختار

Saturday, 14 May 2022

pohnch gaya wo jab hawas k akhiri maqam par

پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر
جھپٹ پڑا حلال زادہ خوبرو حرام پر

یہ کس کے پاس میکدوں کا انتظام آ گیا
شراب رند مانگنے لگے خدا کے نام پر

ادھر طوائفوں میں کھو گیا ہے شاہ سلطنت
ادھر مری پڑی ہیں شاہ زادیاں  غلام پر

تمام دوست پنسلوں سے لیس ہو کے آئے تھے
سبھی نے حاشیہ لگا دیا ہے میرے نام پر

یہ سوچ کر کہ گھر کے پنچھیوں کو کیا جواب دوں
نہیں گیا شکاریوں کی دعوت طعام پر

ہم اس کی آنکھیں چومنے کے جرم میں سزا ہوئے
جو آنکھ رکھ کے بیٹھا ہے ہمارے صبح و شام پر

ٹپک رہی ہے روشنی حسین خدوخال سے
وہ رات اوڑھ کے نکل رہی ہے اپنے کام پر

وہ داد تک وصول کر سکا نہ اپنے کرب کی
کہانی کار مر گیا پہنچ کے اختتام پر

راکب مختار