غزل
یہ کس نے دل پہ سکوتِ ازل اُتارا ہے
کہ ایک نام ہی بس اب تمام چارا ہے
میں اُس کے ہجر کو تقدیر کہہ نہیں سکتا
یہ زخم، زخم نہیں، وقت کا خسارا ہے
کبھی تو یوں ہو کہ خاموشیاں سخن بن جائیں
لبوں کو جنبش نہ ہو، سب کچھ آشکارا ہے
لبوں کو جنبش نہ ہو، سب کچھ آشکارا ہے
وہ ایک شخص کہ جس پر یقیں بھی لازم تھا
اسی کے ہاتھ میں آئینہ پارہ پارہ ہے
میں اپنے درد کو اظہار دے تو دوں لیکن
ہر ایک لفظ پہ اک عمر کا اجارہ ہے
نہ جیتنے کی تمنا، نہ ہارنے کا ملال
یہ عشق کھیل نہیں، زیست کا کنارا ہے
ہزار شہر بسائے گئے مرے اندر
میں جسکو ڈھونڈ رہا ہوں، وہی دوبارہ ہے
ؔنیاز، شعر اگر صرف شعر رہ جائے
تو جان لیجیے ابھی فاصلہ گوارا ہے
No comments:
Post a Comment