مجھے اپنا سمجھا تھا تو اکیلا نہیں کرنا تھا
تمہیں دنیا کے لیے مجھ سے کنارہ نہیں کرنا تھا
میں جو ٹوٹا تھا تو تم سے ہی جڑا رہتا آخر
مجھ کو لوگوں کی طرح تم نے پرایا نہیں کرنا تھا
میں نے دنیا سے تمہیں چھین کے اپنا سمجھا تھا
تم نے دنیا کی طرف پھر سے اشارہ نہیں کرنا تھا
مری دیوانگی اک روز سمجھ آتی تمہیں
مجھے ہر شخص کی نظروں کا تماشا نہیں کرنا تھا
محبت میں خسارہ بھی گوارا تھا مجھے لیکن
تمہیں مجھ سے محبت میں خسارہ نہیں کرنا تھا
میں اگر پاگل بھی ہوتا تو تمہارا ہی رہتا
تم نے لوگوں کے لیے مجھ کو بے سہارا نہیں کرنا تھا
اب جو پتھر بھی پڑے، مجھ کو گلہ کیا ہوتا
تم نے پتھر بھی اٹھائے تو اشارہ نہیں کرنا تھا

No comments:
Post a Comment