data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Sunday, 30 August 2026

Mujhe apna samjha tha to akela Nahi Karna tha

 





مجھے اپنا سمجھا تھا تو اکیلا نہیں کرنا تھا
تمہیں دنیا کے لیے مجھ سے کنارہ نہیں کرنا تھا

میں جو ٹوٹا تھا تو تم سے ہی جڑا رہتا آخر
مجھ کو لوگوں کی طرح تم نے پرایا نہیں کرنا تھا

میں نے دنیا سے تمہیں چھین کے اپنا سمجھا تھا
تم نے دنیا کی طرف پھر سے اشارہ نہیں کرنا تھا

مری دیوانگی اک روز سمجھ آتی تمہیں
مجھے ہر شخص کی نظروں کا تماشا نہیں کرنا تھا

محبت میں خسارہ بھی گوارا تھا مجھے لیکن
تمہیں مجھ سے محبت میں خسارہ نہیں کرنا تھا

میں اگر پاگل بھی ہوتا تو تمہارا ہی رہتا
تم نے لوگوں کے لیے مجھ کو بے سہارا نہیں کرنا تھا

اب جو پتھر بھی پڑے، مجھ کو گلہ کیا ہوتا
تم نے پتھر بھی اٹھائے تو اشارہ نہیں کرنا تھا




No comments:

Post a Comment