قلم سے میں تیری صدا لکھوں گا
سکوتِ شبِ ابتدا لکھوں گا
جہاں عمر نے زخم بوئے ہیں دل میں
وہیں عشق کو میں دعا لکھوں گا
جو تیرے ہی نام سے روشن ہوئی ہے
میں اس تیرگی میں ضیا لکھوں گا
اگر ہجر نے توڑ ڈالا ہے دل کو
شکستِ دلِ باوفا لکھوں گا
!نہیں کوئی تجھ سا زمانے میں جاناں
تجھے دہر کی ہر ادا لکھوں گا
زمانہ جو پوچھے گا، کیا ہے محبت؟
میں اپنے ہی دل کا پتہ لکھوں گا
فنا بھی مقدر اگر ہو گئی
تومیں خوں سے تیرا نقشِ پا لکھوں گا
نیاز! عمر بھر کا یہی ہے خلاصہ
میں اک شخص کو اپنا خدا لکھوں گا
No comments:
Post a Comment