data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Sunday, 2 August 2026

Nahin koi tujh sa zamane mein, Jana! Tujhe dahr ki hr ada likhun ga

قلم سے میں تیری صدا لکھوں گا

سکوتِ شبِ ابتدا لکھوں گا


جہاں عمر نے زخم بوئے ہیں دل میں

وہیں عشق کو میں دعا لکھوں گا


جو تیرے ہی نام سے روشن ہوئی ہے

میں اس تیرگی میں ضیا لکھوں گا


اگر ہجر نے توڑ ڈالا ہے دل کو

شکستِ دلِ باوفا لکھوں گا


!نہیں کوئی تجھ سا زمانے میں جاناں

تجھے دہر کی ہر ادا لکھوں گا


زمانہ جو پوچھے گا، کیا ہے محبت؟

میں اپنے ہی دل کا پتہ لکھوں گا


فنا بھی مقدر اگر ہو گئی

 تومیں خوں سے تیرا نقشِ پا لکھوں گا


نیاز! عمر بھر کا یہی ہے خلاصہ

میں اک شخص کو اپنا خدا لکھوں گا 

No comments:

Post a Comment