غزل
میں اپنے الفاظ میں تیری ہی روشنی لکھوں گا
ہر ایک خواب کی تعبیر میں خوشی لکھوں گا
یہ دل جو عمر بھر تنہائیوں میں جلتا رہا
میں اس کے ہر ورق پر تیری زندگی لکھوں گا
جہاں بھی تیرے تبسم کی ایک کرن اترے گی
میں اس فضا کو محبت کی آگہی لکھوں گا
اگر زمانہ میرے عشق پر سوال کرے گا
میں اپنے صبر کو سب سے بڑی گواہی لکھوں گا
تیری وفا کی مہک جب بھی چھوئے گی مجھ کو
میں اپنی سانس کو خوشبو کی بندگی لکھوں گا
نہ تاج چاہیئے مجھ کو، نہ تخت کی خواہش
میں تیری چاہت کو اپنی بادشاہی لکھوں گا
اگر کبھی بھی اندھیروں کا راج پھیل گیا
میں اپنے خون سے امید کی لَو ہی لکھوں گا
جو لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں عشق کی تعریف
میں تیرے نام کو اس کی سادگی لکھوں گا
ؔنِیاز، لفظ اگر ساتھ دے گئے مجھ کو
میں اپنی ہر دعا میں اُس کی خوشی لکھوں گا
No comments:
Post a Comment