data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Sunday, 2 August 2026

Main Apne alfaz mein Teri he roshni likhun ga

غزل


میں اپنے الفاظ میں تیری ہی روشنی لکھوں گا

ہر ایک خواب کی تعبیر میں خوشی لکھوں گا


یہ دل جو عمر بھر تنہائیوں میں جلتا رہا

میں اس کے ہر ورق پر تیری زندگی لکھوں گا


جہاں بھی تیرے تبسم کی ایک  کرن اترے گی

میں اس فضا کو محبت کی آگہی لکھوں گا


اگر زمانہ میرے عشق پر سوال کرے گا

میں اپنے صبر کو سب سے بڑی گواہی لکھوں گا


تیری وفا کی مہک جب بھی چھوئے گی مجھ کو

میں اپنی سانس کو خوشبو کی بندگی لکھوں گا


نہ تاج چاہیئے مجھ کو، نہ تخت کی خواہش

میں تیری چاہت کو اپنی بادشاہی لکھوں گا


اگر کبھی بھی اندھیروں کا راج پھیل گیا

میں اپنے خون سے امید کی لَو ہی لکھوں گا


جو لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں عشق کی تعریف

میں تیرے نام کو اس کی سادگی لکھوں گا


ؔنِیاز، لفظ اگر ساتھ دے گئے مجھ کو

میں اپنی ہر دعا میں اُس کی خوشی لکھوں گا

No comments:

Post a Comment