میں اُس کو بھول بھی جاتا تو اور کیا کرتا
وہ ایک شخص میرے بعد بھی میرے ساتھ رہا
وہ جس کو چھوڑ کے دنیا کی بھیڑ میں آیا
وہی خیال میرا بن کے ناخدا ساتھ رہا
بچھا تھا دشتِ تمنا میں ہر طرف جادو
میں اپنے آپ سے بھاگا، تو دل سدا ساتھ رہا
وہ ہجر کی کوئی شب تھی کہ زندگی کا سفر
چراغ بجھ بھی گیا، دل کا مہر و ماہ ساتھ رہا
عدو کے تیر تو سینے پہ جھیل لیتا میں
مگر وہ زخم جو اپنوں سے تھا ملا، ساتھ رہا
میں اپنے آپ سے لڑتا رہا تمام ہی عمر
میرے وجود میں اک شخص بے سبب ساتھ رہا
عجیب موڑ پہ لائی تھی زندگی مجھ کو
میں جس طرف بھی گیا، میرا خدا ساتھ رہا
نیازؔ! شہرِ سخن میں جو کچھ ملا مجھ کو
وہ خونِ دل تھا جو بن کر میری صدا ساتھ رہا
No comments:
Post a Comment