data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">
Showing posts with label نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم. Show all posts
Showing posts with label نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم. Show all posts

Saturday, 9 July 2022

بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ​

بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ​
آ دِل میں تُجھے رکھ لُوں اے جلوہ جَانَانَہ​
کِیوں آنکھ مِلائی تِھی کیوں آگ لگائی تِھی​
اب رُخ کو چُھپا بیٹھے کر کے مُجھے دِیوانہ​
اِتنا تو کرم کرنا اے چِشمِ کریمانہ​
جب جان لبوں پر ہو تُم سامنے آ جانا​
اب موت کی سختِی تو برداشت نہیں ہوتِی​
تُم سامنے آ بیٹھو دم نِکلے گا آسانہ​
دُنیا میں مُجھے اپنا جو تُم نے بنایا ہے​
محشر میں بِھِی کہہ دینا یہ ہے مرا دیوانہ​
جاناں تُجھے مِلنے کی تدبِیر یہ سوچِی ہے​
ہم دِل میں بنا لیں گے چھوٹا سا صنم خانہ​
میں ہوش حواس اپنے اِس بات پہ کھو بیٹھا​
تُو نے جو کہا ہنس کے یہ ہے میرا دیوانہ​
پینے کو تو پِی لُوں گا پر عَرض ذرّا سی ہے​
اجمیر کا ساقِی ہو بغداد کا میخانہ​
کیا لُطف ہو محشر میں شِکوے میں کیے جاوں​
وہ ہنس کے یہ فرمائیں دیوانہ ہے دیوانہ​
جِی چاہتا ہے تحفے میں بھِیجُوں اُنہیں آنکھیں​
درشن کا تو درشن ہو نذرانے کا نذرانَہ​
بیدمؔ میری قِسمت میں سجدے ہیں اُسِی دّر کے​
چُھوٹا ہے نہ چُھوٹے گا سنگِ درِّ جَانَانَہ​

کلام: بیدمؔ شاہ وارثی

Friday, 8 July 2022

نہ ہوتا در محمدؐ کا تو دیوانے کہاں جاتے

نہ ہوتا در محمدؐ کا تو دیوانے کہاں جاتے
خدا سے اپنے دل کی بات منوانے کہاں جاتے

جنہیں عشقِ محمدؐ نے کیا ادراک سے بالا
حقیقت اِن تمنّاؤں کی سمجھانے کہاں جاتے

خدا کا شُکر ہے یہ، حجرِ اسود تک رسائی ہے
جنہیں کعبے سے نِسبت ہے وہ بُتخانے کہاں جاتے

اگر آتی نہ خوشبوئے مدینہ آنکھوں سے
جو مرتے ہیں نہ جلتے ہیں وہ پروانے کہاں جاتے

سِمٹ آئے میری آنکھوں میں حُسنِ زندگی بن کر
شرابِ درد سے مخمور نذرانے کہاں جاتے

چلو اچھا ہوا ہے نعتِ ساغرؔ کام آئی
غلامانِ نبیؐ محشر میں پہچانے کہاں جاتے

ساغر صدیقی