data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Monday, 7 September 2026

talatum mein bhi jo sahil ka manzar badalta hai

 

غزل

تلاطم میں بھی جو ساحل کا منظر بدلتا ہے
مرا دل دیکھ کر اُس چشم کا تیور بدلتا ہے

ہمیں معلوم ہے دنیا کی اس بستی کا ہر رستہ
مسافر تھک بھی جائے تو کہاں رہبر بدلتا ہے

ستارے توڑ لانے کی تمنا کس کو تھی، لیکن
وہ میرے پاس آنے کو زمانہ بھر بدلتا ہے

اگر وہ ایک پل کو بھی مری تنہائی میں آئے
سکوتِ شب کا سارا رنگ، سارا منظر بدلتا ہے

عدو کی کیا بساطِ جنگ جو ہم کو ڈرا پائے
صفِ اول میں جب اپنوں کا ہی لشکر بدلتا ہے

یہ بازی عشق کی ہے، اس میں جیتے گا وہی

جو بازی ہار کر بھی دل کا اپنا ڈر بدلتا ہے

نیازؔ! اس شہرِ بےحس میں سخن کی لاج رکھنے کو
قلم جب ہاتھ میں آئے، مرا مقدر بدلتا ہے

No comments:

Post a Comment