غزل
تلاطم میں بھی جو ساحل کا منظر بدلتا ہے
مرا دل دیکھ کر اُس چشم کا تیور بدلتا ہے
ہمیں معلوم ہے دنیا کی اس بستی کا ہر رستہ
مسافر تھک بھی جائے تو کہاں رہبر بدلتا ہے
ستارے توڑ لانے کی تمنا کس کو تھی، لیکن
وہ میرے پاس آنے کو زمانہ بھر بدلتا ہے
اگر وہ ایک پل کو بھی مری تنہائی میں آئے
سکوتِ شب کا سارا رنگ، سارا منظر بدلتا ہے
عدو کی کیا بساطِ جنگ جو ہم کو ڈرا پائے
صفِ اول میں جب اپنوں کا ہی لشکر بدلتا ہے
یہ بازی عشق کی ہے، اس میں جیتے گا وہی
جو بازی ہار کر بھی دل کا اپنا ڈر بدلتا ہے
نیازؔ! اس شہرِ بےحس میں سخن کی لاج رکھنے کو
قلم جب ہاتھ میں آئے، مرا مقدر بدلتا ہے
No comments:
Post a Comment