غزل
وہ مرے دل کو بھی اک روز مدینہ بنا دیتا ہے
حرفِ سادہ کو جو وہ رازِ سکینہ بنا دیتا ہے
کس کی ہمت ہے کہ ٹکرا کے مٹا دے مجھ کو
میری مٹی کو مرا عشق گنجینہ بنا دیتا ہے
موجِ طوفاں کا کوئی خوف نہیں رہتا پھر
عزمِ راسخ کڑی ریتوں کو سفینہ بنا دیتا ہے
چاکِ دامن کی یہ وحشت تو بہت عام سی ہے
شوقِ صادق ہی مرے زخم کو سینہ بنا دیتا ہے
عقل حیرت سے فقط دیکھتی رہ جاتی ہے
دردِ دل شیشۂ جاں کو بھی نگینہ بنا دیتا ہے
میں تو خاموش ہی رہتا ہوں فغاں کے بدلے
میرا صبر آہ کو بھی حرفِ قرینہ بنا دیتا ہے
جس کے چہرے پہ نیازؔ! حرفِ حقیقت ہو عیاں
وقت اُس شخص کو اس دہر کا آئینہ بنا دیتا ہے
No comments:
Post a Comment