data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Friday, 26 June 2026

Zindagi tere taqazon ne thaka dala boht

ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا ہے بہت

لوگ سمجھتے ہیں ہمیں درد نے ڈھالا ہے بہت


اب کسی شخص پہ کھلتا ہی نہیں دل اپنا

وقت نے ہم کو اکیلے میں سنبھالا ہے بہت


ایک چہرہ تھا جو آنکھوں میں ٹھہرتا ہی رہا

دل نے اُس شخص کو خوابوں میں اُتارا ہے بہت


زندگی تیرے تقاضوں نے تھکا ڈالا مگر
دلِ ناداں کو ابھی جینے کا ارماں ہے بہت


 لوگ سورج کی طرح وقت پہ ڈھل جاتے ہیں

 ہم نے ہر دور میں اپنوں کو بدلتے دیکھا ہے بہت


کوئی لمحہ تو سکون ایسا عطا ہو مجھ کو

 دل نے ہر سانس میں طوفان کو جھیلا ہے بہت


 اب محبت بھی تجارت کی طرح لگتی ہے 

ہم نے اس شہر کا دستور پرکھا ہے بہت


نیازعلی 

No comments:

Post a Comment