ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا ہے بہت
لوگ سمجھتے ہیں ہمیں درد نے ڈھالا ہے بہت
اب کسی شخص پہ کھلتا ہی نہیں دل اپنا
وقت نے ہم کو اکیلے میں سنبھالا ہے بہت
ایک چہرہ تھا جو آنکھوں میں ٹھہرتا ہی رہا
دل نے اُس شخص کو خوابوں میں اُتارا ہے بہت
زندگی تیرے تقاضوں نے تھکا ڈالا مگر
دلِ ناداں کو ابھی جینے کا ارماں ہے بہت
لوگ سورج کی طرح وقت پہ ڈھل جاتے ہیں
ہم نے ہر دور میں اپنوں کو بدلتے دیکھا ہے بہت
کوئی لمحہ تو سکون ایسا عطا ہو مجھ کو
دل نے ہر سانس میں طوفان کو جھیلا ہے بہت
اب محبت بھی تجارت کی طرح لگتی ہے
ہم نے اس شہر کا دستور پرکھا ہے بہت
نیازعلی
No comments:
Post a Comment