کوئی منطق کوئی دلیل نہیں تو ضروری تو بس ضروری ہے
~~~
کچھ لوگ سفرکےلیےہوتےنہیں موزوں
کچھ رستےکٹتےنہیں تنہا،اسےکہنا
~~~
گُل فروشوں کو کیسے سمجھاوں
اُس کی خوشبو اُسی سے آتی ہے
~~~
میں اپنے سارے مسلوں میں اکیلی رہی
مجھے کسی نے نہیں کہا میں ہوں نا
~~~
ضروریاتِ جہاں ہم سے پوچھنے والے
تجھے یہ کیسے بتائیں کہ تو ضروری ہے
~~~
بدنصیبی کی حد پوچھتے ہو تو سنو
میرے پسندیدہ بھی مجھ سے تنگ آ گئے ہیں
~~~
- ایک جھلک دیکھنا ہی اب کافی نہیں
وہ مجھے روبرو، ہوبہو، جابجا چاہیئے
~~~
جب بھی آیا ترا خیال مجھے
دل نے مجھ سے کہا سنبھال مجھے
~~~
کوئی اپنا نہیں اپنے سوا
دوسرا۔ دوسرا ہی ہوتا ہے
~~~
میں انا کی ایک نئی کہکشاں بناؤں گا
جہاں تیرے نام کے ستارے بھی نہیں ائیں گے
اتنی بیزار ہیں آنکھیں کہ خدا جانتا ہے
ہم کو اب خواب تمھارے بھی نہیں آئیں گے
~~~
کبھی دلبر کبھی دشمن کبھی دلدار ہو جانا
کہاں سے تم نے سیکھا ہے بڑا بیزار ہو جانا
کبھی اپنا بنا لینا کبھی دامن چھڑا لینا
کبھی آساں کبھی مشکل کبھی دشوار ہو جانا
کبھی مل کے رقیبوں سے ہمارے حال پہ ہنسنا
کبھی میری محبت میں گل گلزار ہو جانا
~~~
یہی دل تھا کے ترستا تھا مراسم کے لیے
اب یہیں ترک تعلق کے بہانے مانگے
~~~
تیری خاطر سبھی نقصان اٹھا سکتا ہوں
اور اس بات پہ قران اٹھا سکتا ہوں
ہم سفر بننے کے لائق تو نہیں پھر بھی
ساتھ لے چل تیرا سامان اٹھا سکتا
~~~
#اردوشاعری #urdupoetry #urdughazal #2lineurdupoetry
No comments:
Post a Comment