میرے وجود کے یوسف یہ کیسے ممکن ہے
کہ دل میں قحط پڑے اور تجھے پتہ نہ چلے
~~~
میرے وجود کے یوسف یہ کیسے ممکن ہے
کہ دل میں قحط پڑے اور تجھے پتہ نہ چلے
~~~
آج کل وہ مجھے کچھ یوں دیکھتا ھے
جیسے یعقوب ھے اور کرتے پہ خوں دیکھتا ھے
~~~
مثالِ دستِ ذلیخاء تپاک چاہتا ہے
یہ دل بھی دامنِ یوسف ہے چاک چاہتا ہے
~~~

No comments:
Post a Comment