Sunday, 2 August 2026
میں اسکو بھول بھی جاتا تو اور کیا کرتا
Naam oska na lia phir bhi sabhi ko maloom tha, wo aik he shakhs to mere hr sukhan Ka mafhoom tha
غزل
وہ ایک ہی شخص تو میرے ہر سخن کا مفہوم تھا
جسے ڈھونڈتا تھا، وہ مرے دل کا بس اک موہوم تھا
Ye kis Dil pe sakoot-e-azal utara hai k aik naam he bas ab Tamam chara hai
غزل
لبوں کو جنبش نہ ہو، سب کچھ آشکارا ہے
Kisi ne pooch Lia, ishq ki haqeeqat kya, main Der tak ma likhun, phir agr likhun to tu
Nahin koi tujh sa zamane mein, Jana! Tujhe dahr ki hr ada likhun ga
قلم سے میں تیری صدا لکھوں گا
سکوتِ شبِ ابتدا لکھوں گا
جہاں عمر نے زخم بوئے ہیں دل میں
وہیں عشق کو میں دعا لکھوں گا
جو تیرے ہی نام سے روشن ہوئی ہے
میں اس تیرگی میں ضیا لکھوں گا
اگر ہجر نے توڑ ڈالا ہے دل کو
شکستِ دلِ باوفا لکھوں گا
!نہیں کوئی تجھ سا زمانے میں جاناں
تجھے دہر کی ہر ادا لکھوں گا
زمانہ جو پوچھے گا، کیا ہے محبت؟
میں اپنے ہی دل کا پتہ لکھوں گا
فنا بھی مقدر اگر ہو گئی
تومیں خوں سے تیرا نقشِ پا لکھوں گا
نیاز! عمر بھر کا یہی ہے خلاصہ
میں اک شخص کو اپنا خدا لکھوں گا
Main Apne alfaz mein Teri he roshni likhun ga
غزل
میں اپنے الفاظ میں تیری ہی روشنی لکھوں گا
ہر ایک خواب کی تعبیر میں خوشی لکھوں گا
یہ دل جو عمر بھر تنہائیوں میں جلتا رہا
میں اس کے ہر ورق پر تیری زندگی لکھوں گا
جہاں بھی تیرے تبسم کی ایک کرن اترے گی
میں اس فضا کو محبت کی آگہی لکھوں گا
اگر زمانہ میرے عشق پر سوال کرے گا
میں اپنے صبر کو سب سے بڑی گواہی لکھوں گا
تیری وفا کی مہک جب بھی چھوئے گی مجھ کو
میں اپنی سانس کو خوشبو کی بندگی لکھوں گا
نہ تاج چاہیئے مجھ کو، نہ تخت کی خواہش
میں تیری چاہت کو اپنی بادشاہی لکھوں گا
اگر کبھی بھی اندھیروں کا راج پھیل گیا
میں اپنے خون سے امید کی لَو ہی لکھوں گا
جو لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں عشق کی تعریف
میں تیرے نام کو اس کی سادگی لکھوں گا
ؔنِیاز، لفظ اگر ساتھ دے گئے مجھ کو
میں اپنی ہر دعا میں اُس کی خوشی لکھوں گا
Tuesday, 7 July 2026
Wo Jin knpas dolat ho wo Kar lete Hain tabeerein
وہ جن کے پاس دولت ہو وہ کرلیتے ہیں تعبیریں
غریبوں کے مقدر ہمیشہ خواب رہتےہیں
2 line sad poetry
سمیٹ لے وہ منافع جو تیرا بنتا ہے
ادھر دھکیل خسارے ،حساب رہنے دیں
~~~
کتنے ہی برس پُھونک دیئے ہم نے خُوشی سے
اے دل !! تیرے اِک لمحہِ آباد کے پیچھے
~~~
اب جو اداس طبعیت ہے ، رونا کیسا!
پہلے بھی میری کوئی شام سہانی کب تھی
~~~
میرے بے ربط خیالات میں کیا رکھا ہے
میں تو پاگل ہوں میری بات میں کیا رکھا ہے
باندھ رکھا تیری یاد نے ماضی سے مجھے
ور نہ گذرے ہوئے لمحات میں کیا رکھا ہے
میری تکمیل تیری ذاتِ سے ہی ممکن ہے
تو الگ ہو تو میری ذات میں کیا رکھا ہے
Hisab e umar ka itna sa goshwara hai, tumhe Nikal k dekha to sab khasara hai
حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے
کسی چراغ میں ہم ہیں کسی کنول میں ہو تم
کہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا ہے
وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشے میں
تمام عمر کی فرقت ہمیں گوارا ہے
ہر اک صدا جو ہمیں بازگشت لگتی ہے
نجانے ہم ہیں دوبارہ کہ یہ دوبارہ ہے
وہ منکشف مری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں
ہر ایک حُسن کسی حُسن کا اشارہ ہے
عجب اصول ہیں اس کاروبارِ دُنیا کے
کسی کا قرض کسی اور نے اُتارا ہے
کہیں پہ ہے کوئی خُوشبو کہ جس کے ہونے کا
تمام عالمِ موجود استعارا ہے
نجانے کب تھا! کہاں تھا مگر یہ لگتا ہے
یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گزارا ہے
یہ دو کنارے تو دریا کے ہو گئے ، ہم تم!
مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارا ہے
امجد اسلام امجد
Jab un se meri pehli mulaqat hui thi
جب ان سے مری پہلی ملاقات ہوئی تھی
اس دن ہی قیامت کی شروعات ہوئی تھی
اتنا ہے مجھے یاد کبھی بات ہوئی تھی
رسماً ہی سہی ان سے ملاقات ہوئی تھی
خط پڑھ کے خفا تو ہوا اور اس نے کیا کہا
قاصد مرے بارے میں کوئی بات ہوئی تھی
کچھ یاد نہیں بازیٔ الفت کا نتیجہ
تم جیت گئے تھے کہ ہمیں مات ہوئی تھی
میں ہوں وہ رہ عشق میں مظلوم مسافر
منزل کے قریب آ کے جسے رات ہوئی تھی
ہاں یاد ہے مجھ کو ترے گیسو کا بکھرنا
برسا تھا یہ بادل کبھی برسات ہوئی تھی
محروم ہوں اب خواب میں بھی اس کی جھلک سے
جس رخ کی زیارت مجھے دن رات ہوئی تھی
یہ چاند یہ تارے بھی بتاتے ہیں چمک کر
تقسیم ترے حسن کی خیرات ہوئی تھی
بیٹھے تھے سر بزم نصیرؔ ان کے قریں ہم
کل رات کی یہ بات ہے کل رات ہوئی تھی
پیر نصیرالدین نصیرؔ رحمتہ اللہ علیہ
Saturday, 27 June 2026
Mere wajud k yousaf ye kese mumkin hai
2 line urdu shairi, 2 line urdu poetry
کوئی منطق کوئی دلیل نہیں تو ضروری تو بس ضروری ہے
~~~
کچھ لوگ سفرکےلیےہوتےنہیں موزوں
کچھ رستےکٹتےنہیں تنہا،اسےکہنا
~~~
گُل فروشوں کو کیسے سمجھاوں
اُس کی خوشبو اُسی سے آتی ہے
~~~
میں اپنے سارے مسلوں میں اکیلی رہی
مجھے کسی نے نہیں کہا میں ہوں نا
~~~
ضروریاتِ جہاں ہم سے پوچھنے والے
تجھے یہ کیسے بتائیں کہ تو ضروری ہے
~~~
بدنصیبی کی حد پوچھتے ہو تو سنو
میرے پسندیدہ بھی مجھ سے تنگ آ گئے ہیں
~~~
- ایک جھلک دیکھنا ہی اب کافی نہیں
وہ مجھے روبرو، ہوبہو، جابجا چاہیئے
~~~
جب بھی آیا ترا خیال مجھے
دل نے مجھ سے کہا سنبھال مجھے
~~~
کوئی اپنا نہیں اپنے سوا
دوسرا۔ دوسرا ہی ہوتا ہے
~~~
میں انا کی ایک نئی کہکشاں بناؤں گا
جہاں تیرے نام کے ستارے بھی نہیں ائیں گے
اتنی بیزار ہیں آنکھیں کہ خدا جانتا ہے
ہم کو اب خواب تمھارے بھی نہیں آئیں گے
~~~
کبھی دلبر کبھی دشمن کبھی دلدار ہو جانا
کہاں سے تم نے سیکھا ہے بڑا بیزار ہو جانا
کبھی اپنا بنا لینا کبھی دامن چھڑا لینا
کبھی آساں کبھی مشکل کبھی دشوار ہو جانا
کبھی مل کے رقیبوں سے ہمارے حال پہ ہنسنا
کبھی میری محبت میں گل گلزار ہو جانا
~~~
یہی دل تھا کے ترستا تھا مراسم کے لیے
اب یہیں ترک تعلق کے بہانے مانگے
~~~
تیری خاطر سبھی نقصان اٹھا سکتا ہوں
اور اس بات پہ قران اٹھا سکتا ہوں
ہم سفر بننے کے لائق تو نہیں پھر بھی
ساتھ لے چل تیرا سامان اٹھا سکتا
~~~
#اردوشاعری #urdupoetry #urdughazal #2lineurdupoetry
Teri ankho ki saholat muyassar ho jis ko
تیری انکھوں کی سہولت ہو میسر جس کو
وہ بھلا چاند ستاروں کو کہاں دیکھے گا
رو برو عشق ہو اور عشق بھی تیرے جیسا پھر
کوئی دل کے خساروں کو کہاں دیکھے گا
Aam se chehro pr Bhi ishq utarta hai
عام سے چہروں پہ بھی عشق اترتا ہے
کہانیاں فقط شہزادیوں کی نہیں ہوتی
تم کسی سیارے کی ہجرت زدہ لگتی ہو
ایسی انکھیں زمین زادیوں کی نہیں ہوتی
Friday, 26 June 2026
Apne he ehd k khamosh masiha hum he to hain
غزل
لوگ کردار بدلتے رہے موسم کی طرح
اپنی آنکھوں میں لیے ایک ہی چہرہ ہم ہی تو ہیں
نیازعلی
Waqt ki dhoop mein chehre thy badal jany wale
وقت کی دھوپ میں چہرے تھے بدل جانے والے
کون تھے اپنے، کہاں تھے وہ نبھانے والے
روشنی بانٹنے نکلا تو یہ جانا میں نے
سب سے آگے مرے اپنے تھے چراغ بجھانے والے
ہم نے ہر زخم کو خاموش دعا سمجھا تھا
وہ ہی نکلے مرے سینے کو دکھانے والے
ہم نے بازارِ وفا خوب سجایا لیکن
سب سے پہلے تھے وہی عہد بھلانے والے
تاج و تخت اور یہ زر، اہلِ ہوس کو مبارک
ہم تو مٹی ہیں، سو مٹی میں سما جانے والے
لفظ سچ بولنے لگ جائیں تو ڈر لگتا ہے
شہر بھر میں ہیں یہاں سچ کو دبانے والے
وقت کے ساتھ کئی رشتے دھواں ہو بیٹھے
ایک ہم تھے کہ رہے دل ہی جلانے والے
خاک سے پوچھ کہ انجامِ تکبر کیا ہے
خاک ہی ڈھونڈتی پھرتی ہے اکڑ جانے والے
درد جب حد سے گزرا تو ہنر بن بیٹھا
ہم نہ تھے اشک کے بازار سجانے والے
ہم نے سچ کہہ دیا، بس اتنی خطا تھی اپنی
ورنہ سب تھے یہاں دربار میں جانے والے
---
نیازعلی
Ameer e shehr har haal mein haq Dar Lagta hai
یہاں ہر شخص اپنے فائدے کا یار لگتا ہے
محبت کم، ضرورت کا ہی بازار لگتا ہے
جو اپنے تھے، وہی سب سے زیادہ زخم دیتے ہیں
مجھے اب گھر بھی دشمن کا کوئی دربار لگتا ہے
تعلق رکھ تو لیتے ہیں سبھی مطلب نکلنے تک
یہاں ہر رشتہ کاغذ کا ہی اخبار لگتا ہے
غریبِ شہر سچ بولے تو جھوٹا ہی سمجھتے ہیں
امیرِ شہر ہر حال میں حق دار لگتا ہے
یہاں احساس کی قیمت نہیں باقی زمانے میں
ہر اک جذبہ کسی سودے کا اظہار لگتا ہے
وفاداری، خلوص، عشق — سب لفظوں کی باتیں ہیں
حقیقت میں تو ہر چہرہ اداکار لگتا ہے
میں اپنے آپ سے ملنے سے بھی ڈرتا ہوں اب اکثر
مجھے آئینہ بھی جیسے کوئی غدار لگتا ہے
نیازعلی
Zindagi tere taqazon ne thaka dala boht
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا ہے بہت
لوگ سمجھتے ہیں ہمیں درد نے ڈھالا ہے بہت
اب کسی شخص پہ کھلتا ہی نہیں دل اپنا
وقت نے ہم کو اکیلے میں سنبھالا ہے بہت
ایک چہرہ تھا جو آنکھوں میں ٹھہرتا ہی رہا
دل نے اُس شخص کو خوابوں میں اُتارا ہے بہت
زندگی تیرے تقاضوں نے تھکا ڈالا مگر
دلِ ناداں کو ابھی جینے کا ارماں ہے بہت
لوگ سورج کی طرح وقت پہ ڈھل جاتے ہیں
ہم نے ہر دور میں اپنوں کو بدلتے دیکھا ہے بہت
کوئی لمحہ تو سکون ایسا عطا ہو مجھ کو
دل نے ہر سانس میں طوفان کو جھیلا ہے بہت
اب محبت بھی تجارت کی طرح لگتی ہے
ہم نے اس شہر کا دستور پرکھا ہے بہت
نیازعلی
Teri yado ki aziyat Bhi Kam nhi
دل میں اک شور سا رہتا ہے رات بھر تنہا
کون ہے جو مجھے کرتا ہے رات بھر تنہا
شہر کے لوگ تماشائی بن کے دیکھتے ہیں
ایک دیوانہ جو پھرتا ہے رات بھر تنہا
تیری یادوں کی اذیت بھی کم نہیں لیکن
دل یہی سوچ کے جیتا ہے رات بھر تنہا
ایک مدت سے کوئی پاس نہیں بیٹھا میرے
میرا سایہ ہی تو رہتا ہے رات بھر تنہا
نیازعلی
چاند خاموش، فضا خاموش، ستارے گم صم
کون پھر مجھ سے یہ کہتا ہے رات بھر تنہا
اپنے اندر کئی آوازیں لیے پھرتا ہوں
کون اس درد کو سمجھا ہے رات بھر تنہا
لوگ ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں لمحوں کی طرح
کون کس کا یہاں ہوتا ہے رات بھر تنہا۔
Ab to bazar mein ehsas Bhi bik jata hai
اب تو بازار میں احساس بھی بِک جاتا ہے
اور سچ ایسا کہ اخبار میں چھپتا ہی نہیں
لوگ چہروں کو سجائے ہوئے پھرتے ہیں بہت
کوئی اندر کی شکستوں کو سمجھتا ہی نہیں
ہر طرف شورِ ترقی ہے، تمدّن، تہذیب
آدمی اپنے ہی سایے سے نکلتا ہی نہیں
کتنے نعروں نے یہاں خون کو جائز ٹھہرایا
کوئی مقتول عدالت میں بلاتا ہی نہیں
جس کے ہاتھوں میں زمانے کی معیشت ہے ابھی
وہ کسی بھوک کو اعداد سے بڑھتا ہی نہیں
اب تو مذہب بھی سیاست کی زباں بولتا ہے
کوئی سجدے میں بھی پہلے سا پگھلتا ہی نہیں
لوگ تاریخ کو فتحوں کی کتابیں سمجھیں
کوئی برباد گھروں تک کبھی پہنچتا ہی نہیں
ہر طرف خوف کی دیوار کھڑی ہے ایسی
آدمی چیخ بھی دے تو کوئی سنتا ہی نہیں
جس نے ایٹم کی رگوں تک کو کھول کر دیکھ لیا
اپنے اندر کے اندھیرے میں اترتا ہی نہیں
اب مشینوں کو بھی احساس سکھایا جا رہا ہے
اور انسان کسی انسان سے ملتا ہی نہیں
نیازعلی خان
لوگ کہتے ہیں کہ اب وقت بہت آگے ہے
وقت انسان کے اندر سے گزرتا ہی نہیں
اب تو بازار میں احساس بھی بِک جاتا ہے
اور سچ ایسا کہ اخبار میں چھپتا ہی نہیں
