data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Sunday, 2 August 2026

میں اسکو بھول بھی جاتا تو اور کیا کرتا



میں اُس کو بھول بھی جاتا تو اور کیا کرتا
وہ ایک شخص میرے بعد بھی میرے ساتھ رہا
وہ جس کو چھوڑ کے دنیا کی بھیڑ میں آیا
وہی خیال میرا بن کے ناخدا ساتھ رہا
بچھا تھا دشتِ تمنا میں ہر طرف جادو
میں اپنے آپ سے بھاگا، تو دل سدا ساتھ رہا
وہ ہجر کی کوئی شب تھی کہ زندگی کا سفر
چراغ بجھ بھی گیا، دل کا مہر و ماہ ساتھ رہا
عدو کے تیر تو سینے پہ جھیل لیتا میں
مگر وہ زخم جو اپنوں سے تھا ملا، ساتھ رہا
میں اپنے آپ سے لڑتا رہا تمام ہی عمر
میرے وجود میں اک شخص بے سبب ساتھ رہا
عجیب موڑ پہ لائی تھی زندگی مجھ کو
میں جس طرف بھی گیا، میرا خدا ساتھ رہا
نیازؔ! شہرِ سخن میں جو کچھ ملا مجھ کو
وہ خونِ دل تھا جو بن کر میری صدا ساتھ رہا

Naam oska na lia phir bhi sabhi ko maloom tha, wo aik he shakhs to mere hr sukhan Ka mafhoom tha

 غزل

نام اس کا نہ لیا، پھر بھی سبھی کو معلوم تھا
وہ ایک ہی شخص تو میرے ہر سخن کا مفہوم تھا

میں اپنے ہی وجود سے اب دور جا کے یہ سمجھا
جسے ڈھونڈتا تھا، وہ مرے دل کا بس اک موہوم تھا

عجیب رنج تھا، دریا بھی پیاس لکھتا رہا یہاں 
عجیب بخت تھا، صحرا بھی تشنہ لب مغموم تھا

وہ میرے سامنے بیٹھا رہا تمام شب
مگر جو کہنا تھا، لفظوں کے درمیاں معدوم تھا

کسی نے پوچھ لیا، عشق کی حقیقت ہے آخر کیا؟
میں مسکرا نہ سکا، بس میری آنکھ کا ہر اشک مظلوم تھا

زمانہ دیتا رہا مجھ کو ہر قدم پر نئے زخم
مرا نصیب ہی گویا خوشیوں سے محروم تھا

ؔنیاز! شعر نہیں، خونِ جگر مانگتی ہے غزل
قلم تو ہاتھ میں تھا، دل کا حوصلہ ہی کچھ معصوم تھا

Ye kis Dil pe sakoot-e-azal utara hai k aik naam he bas ab Tamam chara hai

 غزل

یہ کس نے دل پہ سکوتِ ازل اُتارا ہے
کہ ایک نام ہی بس اب تمام چارا ہے

میں اُس کے ہجر کو تقدیر کہہ نہیں سکتا
یہ زخم، زخم نہیں، وقت کا خسارا ہے

کبھی تو یوں ہو کہ خاموشیاں سخن بن جائیں
لبوں کو جنبش نہ ہو، سب کچھ آشکارا ہے

وہ ایک شخص کہ جس پر یقیں بھی لازم تھا
اسی کے ہاتھ میں آئینہ پارہ پارہ ہے

میں اپنے درد کو اظہار دے تو دوں لیکن

ہر ایک لفظ پہ اک عمر کا اجارہ ہے

نہ جیتنے کی تمنا، نہ ہارنے کا ملال
یہ عشق کھیل نہیں، زیست کا کنارا ہے

ہزار شہر بسائے گئے مرے اندر
میں جسکو ڈھونڈ رہا ہوں، وہی دوبارہ ہے

ؔنیاز، شعر اگر صرف شعر رہ جائے
تو جان لیجیے ابھی فاصلہ گوارا ہے

Kisi ne pooch Lia, ishq ki haqeeqat kya, main Der tak ma likhun, phir agr likhun to tu


مرے وجود کا حاصل اگر لکھوں، تو تُو
میں اپنی عمر کا آخری سفر لکھوں، تو تُو

ہزار نام تھے دنیا کے ہر تعلق کے
مگر وفا کا فقط ایک حرف لکھوں، تو تُو

جو روشنی بھی مرے بعد اس جہاں میں رہے
میں اپنے نام کے نیچے اثر لکھوں، تو تُو

کسی نے پوچھ لیا، عشق کی حقیقت کیا
میں دیر تک نہ لکھوں، پھر اگر لکھوں، تو تُو

یہ کیسی پیاس ہے، دریا بھی جس سے کم نکلے
میں تشنگی کا اگر ہم سفر لکھوں، تو تُو

زمانہ مجھ سے میرے خواب کی دلیل مانگے
میں اپنی آنکھ کا سارا ہنر لکھوں، تو تُو

ؔنیاز، لفظ میرے اختیار میں کب تھے
جو دل نے صاف لکھا، معتبر لکھوں، تو تُو

Nahin koi tujh sa zamane mein, Jana! Tujhe dahr ki hr ada likhun ga

قلم سے میں تیری صدا لکھوں گا

سکوتِ شبِ ابتدا لکھوں گا


جہاں عمر نے زخم بوئے ہیں دل میں

وہیں عشق کو میں دعا لکھوں گا


جو تیرے ہی نام سے روشن ہوئی ہے

میں اس تیرگی میں ضیا لکھوں گا


اگر ہجر نے توڑ ڈالا ہے دل کو

شکستِ دلِ باوفا لکھوں گا


!نہیں کوئی تجھ سا زمانے میں جاناں

تجھے دہر کی ہر ادا لکھوں گا


زمانہ جو پوچھے گا، کیا ہے محبت؟

میں اپنے ہی دل کا پتہ لکھوں گا


فنا بھی مقدر اگر ہو گئی

 تومیں خوں سے تیرا نقشِ پا لکھوں گا


نیاز! عمر بھر کا یہی ہے خلاصہ

میں اک شخص کو اپنا خدا لکھوں گا 

Main Apne alfaz mein Teri he roshni likhun ga

غزل


میں اپنے الفاظ میں تیری ہی روشنی لکھوں گا

ہر ایک خواب کی تعبیر میں خوشی لکھوں گا


یہ دل جو عمر بھر تنہائیوں میں جلتا رہا

میں اس کے ہر ورق پر تیری زندگی لکھوں گا


جہاں بھی تیرے تبسم کی ایک  کرن اترے گی

میں اس فضا کو محبت کی آگہی لکھوں گا


اگر زمانہ میرے عشق پر سوال کرے گا

میں اپنے صبر کو سب سے بڑی گواہی لکھوں گا


تیری وفا کی مہک جب بھی چھوئے گی مجھ کو

میں اپنی سانس کو خوشبو کی بندگی لکھوں گا


نہ تاج چاہیئے مجھ کو، نہ تخت کی خواہش

میں تیری چاہت کو اپنی بادشاہی لکھوں گا


اگر کبھی بھی اندھیروں کا راج پھیل گیا

میں اپنے خون سے امید کی لَو ہی لکھوں گا


جو لوگ ڈھونڈتے پھرتے ہیں عشق کی تعریف

میں تیرے نام کو اس کی سادگی لکھوں گا


ؔنِیاز، لفظ اگر ساتھ دے گئے مجھ کو

میں اپنی ہر دعا میں اُس کی خوشی لکھوں گا

Tuesday, 7 July 2026

Wo Jin knpas dolat ho wo Kar lete Hain tabeerein

وہ جن کے پاس دولت ہو وہ کرلیتے ہیں تعبیریں 

غریبوں کے مقدر ہمیشہ خواب رہتےہیں 

2 line sad poetry

سمیٹ لے وہ منافع جو تیرا بنتا ہے 

ادھر دھکیل خسارے ،حساب رہنے دیں 


~~~


‏کتنے ہی برس پُھونک دیئے ہم نے خُوشی سے

اے دل !! تیرے اِک لمحہِ آباد کے پیچھے 


~~~


اب جو اداس طبعیت ہے ، رونا کیسا!

پہلے بھی میری کوئی شام سہانی کب تھی


~~~


میرے بے ربط خیالات میں کیا رکھا ہے 

 میں تو پاگل ہوں میری بات میں کیا رکھا ہے 


 باندھ رکھا تیری یاد نے ماضی سے مجھے 

 ور نہ گذرے ہوئے لمحات میں کیا رکھا ہے 


میری تکمیل تیری ذاتِ سے ہی ممکن ہے 

تو الگ ہو تو میری ذات میں کیا رکھا ہے

Hisab e umar ka itna sa goshwara hai, tumhe Nikal k dekha to sab khasara hai

حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے

تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے


کسی چراغ میں ہم ہیں کسی کنول میں ہو تم

کہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا ہے


وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشے میں

تمام عمر کی فرقت ہمیں گوارا ہے


ہر اک صدا جو ہمیں بازگشت لگتی ہے

نجانے ہم ہیں دوبارہ کہ یہ دوبارہ ہے


وہ منکشف مری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں

ہر ایک حُسن کسی حُسن کا اشارہ ہے


عجب اصول ہیں اس کاروبارِ دُنیا کے

کسی کا قرض کسی اور نے اُتارا ہے


کہیں پہ ہے کوئی خُوشبو کہ جس کے ہونے کا

تمام عالمِ موجود استعارا ہے


نجانے کب تھا! کہاں تھا مگر یہ لگتا ہے

یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گزارا ہے


یہ دو کنارے تو دریا کے ہو گئے ، ہم تم!

مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارا ہے


امجد اسلام امجد 

Jab un se meri pehli mulaqat hui thi

 جب ان سے مری پہلی ملاقات ہوئی تھی

اس دن ہی قیامت کی شروعات ہوئی تھی


اتنا ہے مجھے یاد کبھی بات ہوئی تھی

رسماً ہی سہی ان سے ملاقات ہوئی تھی


خط پڑھ کے خفا تو ہوا اور اس نے کیا کہا

قاصد مرے بارے میں کوئی بات ہوئی تھی


کچھ یاد نہیں بازیٔ الفت کا نتیجہ

تم جیت گئے تھے کہ ہمیں مات ہوئی تھی


میں ہوں وہ رہ عشق میں مظلوم مسافر

منزل کے قریب آ کے جسے رات ہوئی تھی


ہاں یاد ہے مجھ کو ترے گیسو کا بکھرنا

برسا تھا یہ بادل کبھی برسات ہوئی تھی


محروم ہوں اب خواب میں بھی اس کی جھلک سے

جس رخ کی زیارت مجھے دن رات ہوئی تھی


یہ چاند یہ تارے بھی بتاتے ہیں چمک کر

تقسیم ترے حسن کی خیرات ہوئی تھی


بیٹھے تھے سر بزم نصیرؔ ان کے قریں ہم

کل رات کی یہ بات ہے کل رات ہوئی تھی


پیر نصیرالدین نصیرؔ رحمتہ اللہ علیہ

Saturday, 27 June 2026

Mere wajud k yousaf ye kese mumkin hai

 



 


میرے وجود کے یوسف یہ کیسے ممکن ہے 
کہ دل میں قحط پڑے اور تجھے پتہ نہ چلے

~~~

میرے وجود کے یوسف یہ کیسے ممکن ہے 
کہ دل میں قحط پڑے اور تجھے پتہ نہ چلے

~~~

آج کل وہ مجھے کچھ یوں دیکھتا ھے
جیسے یعقوب ھے اور کرتے پہ خوں دیکھتا ھے

~~~

مثالِ دستِ ذلیخاء تپاک چاہتا ہے 
یہ دل بھی دامنِ یوسف ہے چاک چاہتا ہے 


~~~


2 line urdu shairi, 2 line urdu poetry

کوئی منطق کوئی دلیل نہیں تو ضروری تو بس ضروری ہے 


~~~

کچھ لوگ سفرکےلیےہوتےنہیں موزوں

کچھ رستےکٹتےنہیں تنہا،اسےکہنا


~~~


گُل فروشوں کو کیسے سمجھاوں

 اُس کی خوشبو اُسی سے آتی ہے


~~~


میں اپنے سارے مسلوں میں اکیلی رہی 

مجھے کسی نے نہیں کہا میں ہوں نا 


~~~


‏ضروریاتِ جہاں ہم سے پوچھنے والے

‏تجھے یہ کیسے بتائیں کہ تو ضروری ہے


‏~~~


بدنصیبی کی حد پوچھتے ہو تو سنو 

میرے پسندیدہ بھی مجھ سے تنگ آ گئے ہیں


~~~


- ‏ایک جھلک دیکھنا ہی اب کافی نہیں

وہ مجھے روبرو، ہوبہو، جابجا چاہیئے 


~~~


جب بھی آیا ترا خیال مجھے 

دل نے مجھ سے کہا سنبھال مجھے


~~~


کوئی اپنا نہیں اپنے سوا

دوسرا۔ دوسرا ہی ہوتا ہے


~~~


میں انا کی ایک نئی کہکشاں بناؤں گا 

جہاں تیرے نام کے ستارے بھی نہیں ائیں گے


اتنی بیزار ہیں آنکھیں کہ خدا جانتا ہے

ہم کو اب خواب تمھارے بھی نہیں آئیں گے 


~~~

کبھی دلبر کبھی دشمن کبھی دلدار ہو جانا

کہاں سے تم نے سیکھا ہے بڑا بیزار ہو جانا


کبھی اپنا بنا لینا کبھی دامن چھڑا لینا

کبھی آساں کبھی مشکل کبھی دشوار ہو جانا


کبھی مل کے رقیبوں سے ہمارے حال پہ ہنسنا

کبھی میری محبت میں گل گلزار ہو جانا


~~~


یہی دل تھا کے ترستا تھا مراسم کے لیے

 اب یہیں ترک تعلق کے بہانے مانگے


~~~


تیری خاطر سبھی نقصان اٹھا سکتا ہوں

 اور اس بات پہ قران اٹھا سکتا ہوں 

ہم سفر بننے کے لائق تو نہیں پھر بھی

 ساتھ لے چل تیرا سامان اٹھا سکتا


~~~

#اردوشاعری #urdupoetry #urdughazal #2lineurdupoetry


Teri ankho ki saholat muyassar ho jis ko

 تیری انکھوں کی سہولت ہو میسر جس کو

 وہ بھلا چاند ستاروں کو کہاں دیکھے گا


رو برو عشق ہو اور عشق بھی تیرے جیسا پھر

 کوئی دل کے خساروں کو کہاں دیکھے گا

Aam se chehro pr Bhi ishq utarta hai

عام سے چہروں پہ بھی عشق اترتا ہے 

کہانیاں فقط شہزادیوں کی نہیں ہوتی 

تم کسی سیارے کی ہجرت زدہ لگتی ہو 

ایسی انکھیں زمین زادیوں کی نہیں ہوتی

Friday, 26 June 2026

Apne he ehd k khamosh masiha hum he to hain

 غزل

وقت کے زخم کو سینے میں چھپائے ہم ہی تو ہیں
اپنے ہی عہد کے خاموش مسیحا ہم ہی تو ہیں

جس نے ہر دور کے چہروں کو پرکھ کر دیکھا
اس نگاہِ غمِ فردا کا اجالا ہم ہی تو ہیں

شہر آباد ہوئے، دل کی گلی ویران رہی
اس تمدّن کے خسارے کا پتا ہم ہی تو ہیں

خاک اُڑتی رہی صدیوں سے سرِ راہ مگر
اپنی مٹی سے جُڑا ایک شجر، ہم ہی تو ہیں

جس طرف دیکھئے بازار سجے ہیں ہر سو
بِک نہ پائے جو کبھی، ایسی متاع ہم ہی تو ہیں

وقت جب اپنے ہی بچوں کو نگلنے لگا
اس کے جبڑے میں پھنسا آخری لمحہ ہم ہی تو ہیں

لوگ کردار بدلتے رہے موسم کی طرح

اپنی آنکھوں میں لیے ایک ہی چہرہ ہم ہی تو ہیں

کل کی بنیاد میں شامل ہے لہو جن کا ابھی
آنے والے کسی عہد کا نقشہ ہم ہی تو ہیں

موت بھی ہم سے چراغوں کی طرح مل نہ سکی
رات بھر جلتے رہے، صبح کا وعدہ ہم ہی تو ہیں

جب قیامت میں کھلے گی یہ کتابِ ایّام
سرخرو رہنے کی اک آخری منشاء ہم ہی تو ہیں


نیازعلی 

Waqt ki dhoop mein chehre thy badal jany wale


وقت کی دھوپ میں چہرے تھے بدل جانے والے

کون تھے اپنے، کہاں تھے وہ نبھانے والے


روشنی بانٹنے نکلا تو یہ جانا میں نے

سب سے آگے مرے اپنے تھے چراغ بجھانے والے


ہم نے ہر زخم کو خاموش دعا سمجھا تھا

وہ ہی نکلے مرے سینے کو دکھانے والے


ہم نے بازارِ وفا خوب سجایا لیکن

سب سے پہلے تھے وہی عہد بھلانے والے


تاج و تخت اور یہ زر، اہلِ ہوس کو مبارک

ہم تو مٹی ہیں، سو مٹی میں سما جانے والے


لفظ سچ بولنے لگ جائیں تو ڈر لگتا ہے

شہر بھر میں ہیں یہاں سچ کو دبانے والے


وقت کے ساتھ کئی رشتے دھواں ہو بیٹھے

ایک ہم تھے کہ رہے دل ہی جلانے والے


خاک سے پوچھ کہ انجامِ تکبر کیا ہے

خاک ہی ڈھونڈتی پھرتی ہے اکڑ جانے والے


درد جب حد سے گزرا تو ہنر بن بیٹھا

ہم نہ تھے اشک کے بازار سجانے والے


ہم نے سچ کہہ دیا، بس اتنی خطا تھی اپنی

ورنہ سب تھے یہاں دربار میں جانے والے


---

نیازعلی 

Ameer e shehr har haal mein haq Dar Lagta hai

یہاں ہر شخص اپنے فائدے کا یار لگتا ہے

محبت کم، ضرورت کا ہی بازار لگتا ہے

 

جو اپنے تھے، وہی سب سے زیادہ زخم دیتے ہیں

مجھے اب گھر بھی دشمن کا کوئی دربار لگتا ہے

 

تعلق رکھ تو لیتے ہیں سبھی مطلب نکلنے تک

یہاں ہر رشتہ کاغذ کا ہی اخبار لگتا ہے

 

غریبِ شہر سچ بولے تو جھوٹا ہی سمجھتے ہیں

امیرِ شہر ہر حال میں حق دار لگتا ہے

 

یہاں احساس کی قیمت نہیں باقی زمانے میں

ہر اک جذبہ کسی سودے کا اظہار لگتا ہے

 

وفاداری، خلوص، عشق — سب لفظوں کی باتیں ہیں

حقیقت میں تو ہر چہرہ اداکار لگتا ہے

 

میں اپنے آپ سے ملنے سے بھی ڈرتا ہوں اب اکثر

مجھے آئینہ بھی جیسے کوئی غدار لگتا ہے


نیازعلی 

Zindagi tere taqazon ne thaka dala boht

ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا ہے بہت

لوگ سمجھتے ہیں ہمیں درد نے ڈھالا ہے بہت


اب کسی شخص پہ کھلتا ہی نہیں دل اپنا

وقت نے ہم کو اکیلے میں سنبھالا ہے بہت


ایک چہرہ تھا جو آنکھوں میں ٹھہرتا ہی رہا

دل نے اُس شخص کو خوابوں میں اُتارا ہے بہت


زندگی تیرے تقاضوں نے تھکا ڈالا مگر
دلِ ناداں کو ابھی جینے کا ارماں ہے بہت


 لوگ سورج کی طرح وقت پہ ڈھل جاتے ہیں

 ہم نے ہر دور میں اپنوں کو بدلتے دیکھا ہے بہت


کوئی لمحہ تو سکون ایسا عطا ہو مجھ کو

 دل نے ہر سانس میں طوفان کو جھیلا ہے بہت


 اب محبت بھی تجارت کی طرح لگتی ہے 

ہم نے اس شہر کا دستور پرکھا ہے بہت


نیازعلی 

Teri yado ki aziyat Bhi Kam nhi

دل میں اک شور سا رہتا ہے رات بھر تنہا

 کون ہے جو مجھے کرتا ہے رات بھر تنہا


شہر کے لوگ تماشائی بن کے دیکھتے ہیں

ایک دیوانہ جو پھرتا ہے رات بھر تنہا


تیری یادوں کی اذیت بھی کم نہیں لیکن

دل یہی سوچ کے جیتا ہے رات بھر تنہا


ایک مدت سے کوئی پاس نہیں بیٹھا میرے

 میرا سایہ ہی تو رہتا ہے رات بھر تنہا


نیازعلی 


 چاند خاموش، فضا خاموش، ستارے گم صم

کون پھر مجھ سے یہ کہتا ہے رات بھر تنہا


 اپنے اندر کئی آوازیں لیے پھرتا ہوں

 کون اس درد کو سمجھا ہے رات بھر تنہا


 لوگ ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں لمحوں کی طرح

 کون کس کا یہاں ہوتا ہے رات بھر تنہا۔ 

Ab to bazar mein ehsas Bhi bik jata hai

اب تو بازار میں احساس بھی بِک جاتا ہے

اور سچ ایسا کہ اخبار میں چھپتا ہی نہیں


لوگ چہروں کو سجائے ہوئے پھرتے ہیں بہت

کوئی اندر کی شکستوں کو سمجھتا ہی نہیں


ہر طرف شورِ ترقی ہے، تمدّن، تہذیب

آدمی اپنے ہی سایے سے نکلتا ہی نہیں


کتنے نعروں نے یہاں خون کو جائز ٹھہرایا

کوئی مقتول عدالت میں بلاتا ہی نہیں


جس کے ہاتھوں میں زمانے کی معیشت ہے ابھی

وہ کسی بھوک کو اعداد سے بڑھتا ہی نہیں


اب تو مذہب بھی سیاست کی زباں بولتا ہے

کوئی سجدے میں بھی پہلے سا پگھلتا ہی نہیں


لوگ تاریخ کو فتحوں کی کتابیں سمجھیں

کوئی برباد گھروں تک کبھی پہنچتا ہی نہیں


ہر طرف خوف کی دیوار کھڑی ہے ایسی

آدمی چیخ بھی دے تو کوئی سنتا ہی نہیں


جس نے ایٹم کی رگوں تک کو کھول کر دیکھ لیا

اپنے اندر کے اندھیرے میں اترتا ہی نہیں


اب مشینوں کو بھی احساس سکھایا جا رہا ہے

اور انسان کسی انسان سے ملتا ہی نہیں

نیازعلی خان 


لوگ کہتے ہیں کہ اب وقت بہت آگے ہے

وقت انسان کے اندر سے گزرتا ہی نہیں


اب تو بازار میں احساس بھی بِک جاتا ہے

اور سچ ایسا کہ اخبار میں چھپتا ہی نہیں