data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Thursday, 11 October 2018

wo jahan bhi Gaya lota to mere pas aya, bas Yahi ik baat achi hai mere harjaii ki, urdu poetry




وہ جہاں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی اک بات اچھی ہے میرے ہرجائی کی


dukh bhari dastan maazi ki, haal ki berukhi ka qissa hoon, urdu poetry



دُکھ بھری داستان ماضی کی 
حال کی بے رُخی کا قصّہ ہُوں

اے حقیقت کے ڈھونڈنے والے 
میں تِری جستجو کا حِصّہ ہوں


ساغر صدیقی

Raah Asan Ho Gai Ho Ge, Jaan Pehchaan Ho Gai Ho Ge, urdu poetry



راہ آسان ہو گئی ہو گی 
جان پہچان ہو گئی ہو گی 


موت سے تیرے درد مندوں کی 
مشکل آسان ہو گئی ہو گی 


پھر پلٹ کر نگہ نہیں آئی 
تجھ پہ قربان ہو گئی ہو گی 


تیری زلفوں کو چھیڑتی تھی صبا 
خود پریشان ہو گئی ہو گی 


اُن سے بھی چھین لو گے یاد اپنی 
جِن کا ایمان ہو گئی ہو گی 


دل کی تسکین پوچھتے ہیں آپ 
ہاں مری جان ہو گئی ہو گی 


مرنے والوں پہ سیف حیرت کیوں 
موت آسان ہو گئی ہو گی


jab tasawur mein na paiyn gy Tujhe, Phir kahan dhondne jain gy Tujhe, urdu poetry



جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں 
پھر کہاں ڈھونڈنے جائیں گے تمہیں 

تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو 
لوگ افسانہ بنائیں گے تمہیں 

حسرتو ! دیکھو یہ ویرانۂ دل 
اس نئے گھر میں بسائیں گے تمہیں 

میری وحشت، مرے غم کے قصے 
لوگ کیا کیا نہ سنائیں گے تمہیں


آہ میں کتنا اثر ہوتا ہے 
یہ تماشا بھی دکھائیں گے تمہیں 

آج کیا بات کہی ہے تم نے 
پھر کبھی یاد دلائیں گے تمہیں 

سیف یوں چھوڑ چلے ہو محفل 
جیسے وہ یاد نہ آئیں گے تمہیں


daagh lahu k kharo par, khaak aese gulzaro par, urdu poetry



داغ لہو کے خاروں پر 
خاک ایسے گلزاروں پر 

تیرے خاک نشینوں کی 
آنکھ لگی ہے تاروں پر 

کس کے لہو کے چھینٹے ہیں 
زنداں کی دیواروں پر 

ایک اداسی ایک سکوت 
کیا پھُولوں، کیا خاروں پر 

دل میں اُمیدیں یوں ہیں سیف 
جیسے پھُول مزاروں پر 


hum ko to gardish e Halat pe rona aya, rone wale Tujhe kis baat pe rona aya, urdu poetry



ہم کو تو گردشِ حالات پہ رونا آیا 
رونے والے تجھے کس بات پہ رونا آیا 


کیسے جیتے ہیں یہ، کس طرح جیے جاتے ہیں 
اہل دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا 


جی نہیں آپ سے کیا شکایت ہو گی 
ہاں مجھے تلخیِ حالات پہ رونا آیا 


حسنِ مغرور کا یہ رنگ بھی دیکھا آخر 
آخر اُن کو بھی کسی بات پہ رونا آیا 


کیسے مر مر کے گزاری ہے تمہیں کیا معلُوم 
رات بھر تاروں بھری رات پہ رونا آیا 


کتنے بیتاب تھے رم جھم میں پئیں گے لیکن 
آئی برسات تو برسات پہ رونا آیا 


حسن نے اپنی جفاؤں پہ بہائے آنسو 
عشق کو اپنی شکایات پہ رونا آیا 


کتنے انجان ہیں کیا سادگی سے پوچھتے ہیں 
کہیے کیا میری کسی بات پہ رونا آیا 


اوّل اوّل تو بس ایک آہ نکل جاتی تھی 
آخر آخر تو ملاقات پہ رونا آیا 


سیف یہ دن تو قیامت کی طرح گزرا ہے 
جانے کیا بات تھی، ہر بات پہ رونا آی


mun utarne lagay haseeno k, hashar ka din qareeb aya hai, urdu poetry



کوئی چلمن سے مُسکرایا ہے 
اب کہیں دھوپ ہے نہ سایہ ہے 

ابھی اپنا، ابھی پرایا ہے 
دل نے بھی کیا مزاج پایا ہے 

خُوبرُو لوگ بے مروت ہیں 
ہم نے دل دے کے آزمایا ہے 

مُنہ اترنے لگے حسینوں کے 
حشر کا دن قریب آیا ہے 

بند ہیں ہم پہ موت کی راہیں 
مدتوں زہرِ غم بھی کھایا ہے 

کیا کریں سیف دیدہ و دل میں 
اپنا تڑپنا قرار پایا ہے


انتخاب از سیف الدین سیف


Mujhe Mil Jao Ak Dua Ki Tarah, Saray Kadshay Be Asar Kr Do, urdu poetry





مجھ کو مل جاو دعا کی طرح
سارے خدشے بے اثر کر دوں 



talab aesi k basa loon dil o jaan mein osay, Naseeb aesa k muyassir deedar bhi nahi, urdu poetry





طلب ایسی کہ بسا لوں دل و جان میں اسے 
نصیب ایسا کہ میسر دیدار بھی نہیں




Tujh Ko maloom hai main ku Ghabraii hui rehti hoon, urdu poetry


تجہکو معلوم ھے 
میں کیوں گھبرائی ھوئی رہتی ھوں 

سب سے چھپتی ھوں
 شرمائی ھوئی رہتی ھوں 


مجھکو پردوں سے نکلنے کی اجازت ہی نہیں
چپ رھوں بس کچھ کہنے کی روایت بھی نہیں

آنکھیں خاموش ہیں ھونٹوں پہ شکایت بھی نہیں
دل دھڑکتا ھے مگر مرجھائی ھوئی رہتی ھوں

سب سے چھپتی ھوں
 اور شرمائی ھوئی رہتی ھوں


میرا آنچل تو شفقت بھرا سایہ ھے
میں نے بالوں کو بڑی چاھت سے چھپایا ھے

میں نے کردار کی پاکیزگی کو اپنایا ھے
پھر بھی الزام ھے کہ بہکائی ھوئی رہتی ھوں

سب سے چھپتی ھوں
 اور شرمائی ھوئی رہتی ھوں


لوگوں کے خوف سے میں کئی پردوں میں رہی
اپنا یوں خود کو سنمبھالا چاھے مردوں میں رہی

مسکراتی رہی
 چاھے کئی بے دردوں میں رہی

اپنے آنگن میں بھی
 کملائی ھوئی رہتی ھوں

سب سے چھپتی ھوں
 اور شرمائی ھوئی رہتی ھوں