data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Wednesday, 22 June 2022

best 2 line sad urdu poetry Collection 2



ہزاروں رنگ ہوں چاہے منظر میں
نہیں گر تو تو کیا منظر ہمارا

~~~

تمہاری دید پہ آنکھوں کی عمر باندھیں ہم 
تمہارے نام پہ دھڑکن چلے ︎ اجازت ہے؟

~~~

کُھل کے اظہار کر شکایت کا 
پوری رغبت سے دیکھ میری طرف

~~~

وہ ایک پل ہی سہی جس میں تم میسّر ہو
اُس ایک پل سے زیادہ تو زندگی بھی نہیں 

~~~

وہ شخص تو نے جس کو چھوڑنے کی جلدی کی،
تیرے مزاج کے سانچے میں ڈھل بھی سکتا تھا

وہ جلدباز خفا ہو کر چل دیا ورنہ،
تنازعات کا کوئی حل نکل بھی سکتا تھا

اَنا نے ہاتھ اُٹھانے نہیں دیا ورنہ،
میری دُعا سے وہ پتھر پگھل بھی سکتا تھا


~~~

تمہاری آنکھ سے ، کاجل چُرانے والے ملال
اَسیر ہو تو گئے تھے ، رِہا ہوئے کہ نہیں؟

~~~

آپ ہی آپ ہیں نگاہوں میں 
دیکھنے کا شعور جب سے ہے

~~~

آپ دیکھیں گے تو حیران ہی  رہ  جائیں گے 
میں نے لفظوں کی بھی جاگیر بنا ڈالی ہے

پھر سے آنکھوں نے کوئی خواب ادھورا دیکھا
پھر سے اس شخص کی تصویر بنا ڈالی ہے

~~~

اے صاحب,جمال! دریچےمیں آ کے دیکھ
ہم پھول بانٹنے۔۔ ترے کوچے میں آئےہیں

~~~

تمہیں کسی نے بتایا کہ مسکراتے ہوئے؟
تم اپنے آپ سے بڑھ کر حسین لگتی ہو

~~~

تُو کہاں اتنے بخت والی تھی
میرے حصّے کا هنس رهی هے تُو

~~~

ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺗﺮﮮ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ
ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮨﮯ " ﻣﺤﺮﻭﻡ ﻭ ﻣﯿﺴﺮ" ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ

~~~

بالوں میں چند پھول , آنکھ میں جگنو سجانے کو
درکار ہے مجھے اک دستِ محبت , یعنی تُو !

~~~

#urdushayari 
#urdupoetry 
##اردوشاعرئ 


best 2 line sad urdu poetry Collection 2



  تم (اپنا ہمسفر) کیسا چاھتی ھو ؟
 یوسف جیسا ! 
خوبصورت ؟ 
نہیں ۔۔۔ اگر اس کے قریب کوئ (غیر عورت) آئے تو وہ کہے "اللہ کی پناہ" ♡

~~~

چاہا تھا میں نے تم کو بنائوں گا ہمسفر 
تم بس حسین یاد بنے اور کچھ نہیں

~~~

بزمِ امکاں میں نہیں کوٸی تصور تُجھ بن
 تو میرا عشق ہے یہ بات گرہ باندھ کے رکھ

~~~

تم سے مل کر کہتی ہیں ششدر آنکھیں
 اتنے اچھے لوگ جہاں میں ہوتے ہیں؟

~~~

میں ترے ہاتھ کی لرزش سے ہی پہچان گئ
 اب ملاقات قیامت میں ہماری ہوگی 

~~~

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ 
ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے

~~~

زندگی کتنی مختلف تھی مگر
 ہم تیرے ساتھ مسکراتے رہے

~~~

چہرے پہ جھریاں پڑ جائیں تو سو جتن کئے جاتے ہیں
 زہن بوڑھا ہو جائے تو پھر کیا کِیا جائے۔۔۔۔۔۔؟

~~~

میں دیکھتا ہوں تو بس دیکھتا ہی رہتا ہوں
 وہ آئینے میں بھی اپنے ہی رنگ چھوڑ گیا

~~~

یہ اپنے حق میں اذیت بنا ہوا لڑکا ، 
خُدا کا چاہے نہیں بن رہا ، تمہارا تو ہے !

~~~


پھر تری یاد کا موسم کہیں لے آیا مجھکو
 میں نے رستوں سے کئ بار شکایت کی ہے

 رنگ بکھرے ہوئے چہروں پہ کہاں سجتا ہے 
بارہا درد نے مجھ سے یہ بغاوت کی ہے

~~~


best 2 line urdu poetry Collection


ایک ہی چہرہ کئی زاویوں سے دیکھتا ہوں 
اس لیے کم نہیں ہوتی ہے محبت میری

~~~

اک نظر میں کہاں کھل سکتا تھا منظر کا نکھار 
 ایک تصویر سے بس شوق بڑھایا گیا ہے

~~~

خد و خال اپنے اجاڑے ہیں ، وگرنہ یوں تو 
 میں حسینہ تھی ، مجھے آتا تھا مائل کرنا

~~~

میں اُس کی بوئے خوش امکان کے خمار میں ہوں
 کہ مجھ میں کوئی مہکتا ہے، مجھ سے بہتر بھی

~~~

پرانے خواب تھپک کے سلانے والا نہیں 
 متاع جاں تجھے میں بھلانے والا نہیں 

 یہ کچھ تمہاری بصارت کا عیب ہے شائد
 میں مہنگے خواب تو ہرگز دکھانے والا نہیں

~~~

اس کا چہرہ سادہ تھا جلد اعتبار کرنے والا 
آنکھیں ذہین تھیں لیکن چالاک نہ تھیں

~~~

یہ بھی دکھ ہے کہ اب وہ شہزادی
 مجھ سے بہتر غلام چاہتی ہے

~~~

وہ ایک بار مرے قہقہے سے ایسا ڈری
 پھر اس کے بعد اداسی نہیں ملی مجھ سے

~~~

میں تجھے دیکھتا ہوں، دیر تلک سوچتا ہوں
 ملنے والوں میں کہاں ہے کوئی تیرے جیسا!

~~~

ہاتھ تھاما جو آپ کا صاحب
 کٹ گیا کب سفر پتہ ہی نہیں

~~~

وہ دلنواز لمحے بھی گئی رتوں میں آئے جب
 میں خواب دیکھتی رہی‛ وہ مجھ کو دیکھتا رہا

~~~

بہت عرصے سے میں تم سے
 ایک طویل ملاقات چاہتی ہوں
 جس میں تمہارا ہاتھ تھام کر 
 میں اپنے دل کا سارا غُبار نکال سکوں
 مختصر اور جلد بازی میں کی گئی ملاقاتیں بھی
 بھلا کوئی ملاقاتیں ہوتی ہیں؟
 تم کیا جانو کہ عجلت میں کیا گیا بوسہ تو 
گرمی میں پیے گئے ٹھنڈے مشروب کی طرح ہوتا ہے

~~~
#urdushayari 
#urdupoetry 
#اردوشاعرئ 
#اردوغزل 

محبت کا ایک گھنٹہ بے


محبت کا ایک گھنٹہ
 بے محبت کی سوبرس زندگی سے بہتر ہے
#اردوشاعرئ 
#urdushayari 

اٌس کو چھوڑا ہے بہت سوچ سمجھ کر میں نے


اٌس کو چھوڑا ہے بہت سوچ سمجھ کر میں نے 
سو پریشان تو رہتا ہوں ، پشیمان نہیں !

#اردوشاعرئ 
#urdupoetry 

تمہاری قوس قزح کے رنگوں میں


تمہاری قوس قزح کے رنگوں میں 
مَیں آٹھواں رنگ ہوں 'رنگ سیاہ '


Sunday, 22 May 2022

ye kab kaha k jee bhar k har kisi ko na dekh

یہ کب کہا ہے کہ جی بھر کے ہر کسی کو نہ دیکھ
سبھی کو دیکھ مگر جاتے اجنبی کو نہ دیکھ

تبھی سے آنکھ کا مرکز زمین ٹھہری ہے
کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ اب کسی کو نہ دیکھ

صدائیں دیتا ہے بپھرا چناب راتوں کو
کہ زندگی سے ہے ملنا تو زندگی کو نہ دیکھ

جو تجھ کو شعر سناتا ہوں بات کرتا ہوں
خدارا بات سمجھ شوق شاعری کو نہ دیکھ

راکب مختار

Wednesday, 18 May 2022

لڑکھڑاتا ہوں تو وہ رو کے لپٹ جاتا ہے


لڑکھڑاتا ہوں تو وہ رو کے لپٹ جاتا ہے
میں نے گرنا ہے تو اس شخص نے مر جانا ہے

#راکب_مختار

Monday, 16 May 2022

وادی جن کی سائنسی حقیقت


وادی جن کی سائنسی حقیقت
تحریر :مظہر عباس خان 

اس سے قبل کہ میں اس کی سائنسی حقیقت سے آگاہ کروں میں مقناطیسی پہاڑوں (Magnetic Hills) کے بارے میں بتانا چاہوں گا
ان پہاڑوں کو گریویٹی ہلز Gravity Hills بھی کہا جاتا ہے یہ پہاڑ عربی میں تلۃ مغناطیسیۃ کہلاتے ہیں 
مقناطیسی پہاڑوں کو پراسرار پہاڑ بھی کہا جاتا ہے
یہی وہ سیاہی مائل پہاڑ ہیں جو نظروں کو دھوکے میں ڈالتے ہیں اسی کی وجہہ سے التباس بصارت پیدا ہوتی ہے
اس کو انگریزی میںOptical illusion کہا جاتا ہے اس کو عربی میں خداع بصری اور فارسی میں خطا ی دید کہا جاتا ہے
یعنی ان پہاڑوں کی مقناطیسیت کے باعث اشیاء اپنی حقیقی صورت میں نظر نہیں آتیں یعنی یہ علاقہ انسانوں میں فریب نظر پیدا کرتا ہے 

نظروں کو فریب دینے والے یہ پہاڑ صرف وادی جن ہی میں نہیں پائے جاتے بلکہ دنیا کے بہت سارے مقامات پر موجود ہیں
خود ہندوستان کے دو علاقوں میں ایسے پہاڑ موجود ہیں جو نظروں کو فریب میں مبتلا کردیتے ہیں اور سڑک کے در حقیقت ڈھلان کو اونچائی میں ظاہر کرتے ہیں
جس کی وجہہ سے سڑک کا حقیقی ڈھلان بھی اونچا دکھائی دیتا ہے چونکہ اونچی دکھائی دینے والی سڑک پر موٹر گاڑی بند ہونے کے باوجود چڑھتی چلی جاتی ہے اسی لئے اس کو دنیا جنوں کی حرکت قرار دیتی ہے

ہندوستان میں علاقہ لداخ کے مقام لیہہ (Leh) سے تقریباً 50 کلو میٹر دور سمندر سے 11000 فٹ کی اونچائی پر موجود لیہہ کارگل سری نگر ہائی وے پر یہ علاقہ ہے
جہاں انجن کے بند ہونے کے باوجود موٹر گاڑی اونچائی پر چڑھ جاتی ہے اور کچھ لمحوں بعد تیزی اختیار کرکے بھاگنے لگتی ہے

ہندوستان کی ریاست گجرات کے علاقہ تلسی شیام Tulsishyam ضلع امریلی (Amreli)میں بھی گذشتہ برسوں ایسی سڑک دریافت ہوئی ہے جہاں گاڑی کا انجن بند ہونے کے باوجود موٹر گاڑی کشش ثقل کے برخلاف Up Hill پر چڑھنے لگتی ہے

Lake Wales
فلوریڈا میں Spook Hills ہیں جنہیں Magnetic Hills کہا جاتا ہے
اس علاقے میں بھی اشیاء الٹی جانب جاتی ہیں اسی لئے امریکہ کی عوام انہیں بد روحوں کا مسکن یعنی Spook Hill کہتی ہیں

کینڈا میں نیاگرا آبشار کے قریب Ontario کے Burlington میں بھی ایسے پہاڑ واقع ہیں جہاں کی سڑکوں پر موٹر کار الٹی جانب یعنی نشیب سے فراز کی جانب سفر کرتی ہے

رچمنڈ Richmond آسٹریلیا کے Mountain Bowen روڈ پر ایسے پہاڑ موجود ہیں جہاں قدرت کی نشانیوں کو دیکھا جا سکتا ہے تاکہ اس کی خلاقی پر ایمان لا سکیں 
اس سڑک پر صرف 50 میٹر کا علاقہ ہی ایسا ہے جہاں موٹر گاڑی اونچائی کی جانب چلنے لگتی ہے

ان کے علاوہ امریکہ کے علاقہ Shullsburg, Wisconsin کے مقناطیسی پہاڑ، یونان کے MountPenteli اسکاٹ لینڈ کے Electric Brae پہاڑ
مشی گن امریکہ کا Mystery Spot وغیرہ بھی شہرت رکھتے ہیں
دنیا کے سینکڑوں مقامات پر ہمیں ایسے پہاڑ مل جائیں گے جہاں نظروں کا دھوکا حقیقت کو بدل دیتا ہے اور سچ جھوٹ کے پردے میں گم ہو جاتا ہے
جس کی وجہہ سے ڈھلان سڑک بھی اونچی دکھائی دینے لگتی ہے اور عام آدمی کو اچھنبے میں ڈال دیتی ہے
میں یہاں بالخصوص ایک جدید سائنسی تجربے کا ذکر کرون گا جو ہمارے ذہنوں کو کھول کر اس میں حقیقت شناسی کے جذبے کو بھر دیتا ہے

یہ تجربہ عراق کی سلیمانی یونیورسٹی میں کیا گیا
عراق کی ایک ریاست خردستان ہے جہاں کے علاقہ کویا (Koya) میں بھی ایسے پہاڑ موجود ہیں
ان پہاڑوں پر سلیمانی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر Perykhan M.Jaf نے تحقیق کی
اور ثابت کیا کہ کسی بھی Magnetic Hills کے اطراف موٹر گاڑی کی کشش ثقل کے خلاف محیر العقل حرکت نظروں کا دھوکہ ہے
ان کے پیش کردہ مقالے میں کافی وضاحت سے التباس بصری اور مقناطیسی پہاڑوں کو سمجھایا گیا
اس محقق نے کئی اقسام کے التباس بصری یعنی فریب نظر
کا ذکر بھی کیا ہے جو ہماری عام زندگی سے متعلق ہیں جیسے Illusions of length اور Illusions of shape وغیرہ

مدینہ کی وادی جن عجیب و غریب خوبصورتی رکھنے والی جگہ ہے
گول پہاڑوں سے گھرا ہوا یہ علاقہ زائد از سات میل کے علاقے پر پھیلا ہوا ہے
یعنی اس علاقے کی سات کلو میٹر لمبی سڑک ہمیں فریب نظر میں مبتلا کرتی ہے ایسی خصوصیت رکھنے والی اس قدر لمبی سڑک دنیا کے دوسرے مقامات پر بہت کم دکھائی دیتی ہے
وادی میں سڑک کی آخری حد تک جانے کے لئے موٹر گاڑیاں بڑی زور آزمائی کے ساتھ گذرتی ہیں
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بہ ظاہر آنکھوں کو ڈھلان دکھائی دینے والی اس سڑک پر موٹر گاڑی یا بس (Bus) کے انجن کو بڑی محنت کرنی پڑتی ہے
جو خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈھلوان دکھائی دینے والی سڑک در حقیقت ڈھلوان نہیں ہے اور جب وادی کی آخری حد سے یہ بس پلٹتی ہیں تو بس کا ڈرائیور موٹر گاڑی کے انجن کو چالو رکھتاہے
لیکن ایکسلیٹر (Accelerator) سے پاؤں اٹھا لیتا ہے
گاڑی نیوٹرل گیر(Neutral Gear) میں آگے بڑھتی چلی جاتی ہے
یعنی دوسرے الفاظ گاڑی کا انجن بند ہوتا ہے لیکن گاڑی چلتی رہتی ہے
اور یہ یقیناً تعجب خیز بات ہے کہ ایکسلیٹر پر پاؤں کا دباؤ نہ ہونے کے باوجود گاڑی سڑک کے نشیب و فراز میں تیزی سے آگے بڑھتی جاتی ہے رفتہ رفتہ بس (Bus) کی رفتار میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے
یہ خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بس (Bus) کی رفتار ایک مرحلے پر ایک سو پچاس تک پہنچ گئی تھی اور ڈرائیور کے پیر ایکسلیٹر پر رکھے ہوئے نہیں تھے
بلکہ وہ اپنے پیروں کو سکوڑ کرسیٹ پر رکھے ادب سے بیٹھا اسٹیرنگ کنٹرول کر رہا تھا
ہاں کبھی کبھی جب رفتار حد سے بڑھ جاتی تو ڈرائیور کے پیر بریک پر پہنچ جاتے اور وہ گاڑی کے بریک لگا دیتا تاکہ گاڑی قابو میں رہے

نظروں کا دھوکہ Optical illusion دراصل حسی تجربات یا حس کو سمجھنے کی غلطی کا نتیجہ ہیں یعنی دکھائی دینے والی شئے سے متعلق آگاہی (Perception) کی غلطی غیر حقیقی صورت حال کو پیدا کرتی ہے
وادی جن میں بھی انسانی دماغ کی ادراکی صلاحیت حقیقت سے بعید ہوجاتی ہے 
آنکھوں کے ذریعہ حاصل کی جانے والی معلومات کا جب دماغ میں تجزیہ انجام پاتا ہے تو دماغ اور آنکھوں کے مابین کشمکش بصری قوت پر اثر انداز ہوتی ہے
اور ان مقناطیسی پہاڑوں سے نکلتی لہروں کے جلو میں انسان تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے

اس کا ادراک صحیح فیصلہ نہیں کرپاتا کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے اور وہ بالآخر غلط دیکھنے لگتا ہے
وادی جن میں بھی یہی اصول کارفرما ہے علاوہ اس کے اس علاقے میں پائے جانے والے مقناطیسی پہاڑوں کے پھیلاؤ اور رفعت کے باعث افق (Horizon) واضح نظر نہیں آتا جو انتشار بصری کی اہم وجہہ ہے
Horizon 
یعنی وہ واضح خط جو زمین کو آسمان سے جدا کرتا ہے اسی لئے اس علاقے میں سڑک ڈھلان ہونے کے باوجود بھی اونچائی کی طرف جاتی ہوئی نظر آتی ہے
اس کیفیت سے انسان عجیب عقیدت میں ڈوب جاتا ہے اور ان پہاڑیوں پر اس کو اللہ کے حروف دکھائی دینے لگتے ہیں
کہیں بظاہر ایسا محسوس کرنے لگتا ہے جیسے پتھر سجدہ ریز ہیں 
نظر کے اس دھوکے کو طبعیات کے سادہ اصولوں سے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے
ہم زندگی میں نظروں کے دھوکے کی کیفیت سے کئی ایک بار دو چار ہوتے ہیں
جیسے اونچا درخت جو کھڑا ہوا ہے لمبا دکھائی دیتا اگر اسی درخت کو کاٹ کر زمین پر رکھ دیں تو زمین پر رکھا ہوا درخت نسبتاً چھوٹا دکھائی دیتا ہے

جہاں تک وادی جن مدینہ المنور کی بات ہے نہ صرف سائنسداں بلکہ عام افراد نے بھی اس کی حقیقت جاننے کے لئے تجربات کئے ہیں
اگر ہم گوگل ارتھ کے ذریعہ اس علاقے کا مشاہدہ کریں تو ایسی خصوصیت رکھنے والی یہ سڑک تقریباً 7 کلو میٹر لمبی نظر آئے گی
اور ان 7 کلو میٹر فاصلے کے دوران سڑک کے ڈھلان کا زاویہ 11.5 ڈگری ہو گا
اور سڑک کے دونوں حدوں کے بیچ 310 میٹر ڈھلان موجود ہو گا
لیکن واہ رے قدرت کہ اس قدر ڈھلان کے باوجود انسانی آنکھ کو یہ ڈھلان اونچائی بن کر دکھائی دیتا رہتا ہے
اسی لئے ایسی وادیاں یا وادی جن مافوق الفطرت اور پراسرار قوتوں کا مرکز دکھائی دیتی ہیں

Sunday, 15 May 2022

hum jo insano ki tehzeeb liye phirte hain

ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں 
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں