ﻭﻓﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺳﯿﮑﮭﻮ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﯼ ﻣﯿﮟ
ﺻﺮﻑ ﺩِﻝ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ، ﺩِﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﮯ
data-ad-format="auto"
data-full-width-responsive="true">
Saturday, 19 January 2019
Wafa karna bhi sikho ishq ki nagri mein, sirf dil lagane se dilon mein ghar nhi hote
Yun Aao Muqadar mein k pa Kar tumhe, Omar baqi Khuda k shukar mein Guzre
یوں آؤ مقدر میں, کہ پا کر تمہیں
عمر باقی خدا کے شکر میں گزرے
Roothna manana sar ankhon pr, Lykin muhabbat mein Shamil koi teesra na ho
روٹهنا منانا _______________سر آنکهوں پر
لیکن محبت میں شامل کوئى تیسرا نہ ہو
Suno tumhe aik Raaz ki baat bataow, Jahan tum nhi hote Wahan Lamhe udas hote hain
سنو تمہیں ایک راز کی بات بتاؤں
جہاں تم نہیں ہوتے وہاں لمحے اداس ہوتے ہیں
Aaina kehta hai kehna tou nhi chahiye tha, Tu abhi zinda hai? rehna tou nhi chahiye tha
آئینہ کہتا ہے، کہنا تو نہیں چاہیے تھا
تُو ابھی زندہ ہے؟ رہنا تو نہیں چاہیے تھا
Wednesday, 19 December 2018
نہ جانے کب میری دنیا میں مسکرائے گا
نہ جانے کب میری دنیا میں مسکرائے گا
وہ ایک شخص جو خوابوں میں بھی خفا سا لگے
Toot jaiy na Bharam hont hilaow kese
ٹوٹ جائے نہ بھرم ہونٹ ہلاؤں کیسے
حال جیسا بھی ہے لوگوں کو سناؤں کیسے
خشک آنکھوں سے بھی اشکوں کی مہک آتی ہے
میں تیرے غم کو زمانے سے چھپاؤں کیسے
تیری صورت ہی میری آنکھ کا سرمایہ ہے
تیرے چہرے سے نگاہوں کو ہٹاؤں کیسے
تو ہی بتلا میری یادوں کو بھلانے والے
میں تیری یاد کو اس دل سے بھلاؤں کیسے
پھول ہوتا تو تیرے در پہ سجا بھی رہتا
زخم لے کر تیری دہلیز پہ آؤں کیسے
آئینہ ماند پڑے سانس بھی لینے سے عدیم
اتنا نازک ہو تعلق تو نبھاؤں کیسے
وہ رلاتا ہے رلائے مجھے جی بھر کے عدیم
میری آنکھیں ہے وہ میں اس کو رلاؤں کیسے
main sun k oski sab batein faqat itna he kehta hoon
میں سن کے اسکی سب باتیں فقط اتنا ہی کہتا ہوں
خفا ہونا، منا لینا، یہ صدیوں سے روایت ہے
محبت کی علامت ہے
گلے شکوے کرو مجھ سے، تمہیں یار اجازت ہے
مگر اک بات میری بھی زرا تم یار رکھ لینا
کبی ایسا بھی ہوتا ہے،
ہوائیں رخ بدلتی ہیں
خزائیں لوٹ آتی ہیں
خطائیں ہو ہی جاتی ہیں
خفا ہونا بھی ممکن ہے
خطا ہونا بھی ممکن ہے
ہمیشہ یاد رکھنا تم، تعلق روٹھ جانے سے
کبی ٹوٹا نہیں کرتے
Thursday, 13 December 2018
wo batein Teri, wo fasane Tere, urdu poetry
وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
شگفتہ شگفتہ بہانے ترے
بس ایک داغِ سجدہ مری کائنات
جبینیں تری ، آستانے ترے
بس ایک زخمِ نظارہ، حصہ مرا
بہاریں تری، آشیانے ترے
فقیروں کی جھولی نہ ہوگی تہی
ہیں بھر پور جب تک خزانے ترے
فقیروں کا جمگھٹ گھڑی دو گھڑی
شرابیں تری، بادہ خانے ترے
ضمیرِ صدف میں کرن کا مقام
انوکھے انوکھے ٹھکانے ترے
بہار و خزاں کم نگاہوں کے وہم
برے یا بھلے، سب زمانے ترے
عدم بھی ہے تیرا حکایت کدہ
کہاں تک گئے ہیں فسانے ترے
bane koi tumhara kis leye jee, urdu poetry
بنے کوئی تُمہارا..............
کس لیے جی؟
یہ چنچل سا اشارہ.............
کس لیے جی؟
اگر ھے تیرگی کا راج ھر سُو
تو پھر روشن ستارہ.............
کس لیے جی؟
وہ کہتا ھے کہ دل پھر سے لگاؤ
خسارے پر خسارہ................
کس لیے جی؟
مری آنکھوں کو جُگنو کہہ رہے ھو؟
مگر یہ استعارہ....................
کس لیے جی؟
کوئی رشتہ نہیں باقی تو بولو
مجھے تم نے پُکارا...................
کس لیے جی؟
بہت سے کام ھیں کرنے کے باقی
محبت پر گزارہ..........................
کس لیے جی؟
بھنور سے دوستی کا کیا سبب ھے؟
کنارے سے کنارہ........................
کس لیے جی؟
مری اُلجھی رہے لٹ..................
تم کو کیا ھے?
اِسے آکے سنوارا.........................
کس لیے جی؟
کہاں ھے جیتنے کا شوق بولو؟
بتا دو دل کو ہارا.......................
کس لیے جی؟
ملیں گے جب کبھی موقع ملا تو
ابھی سے اِستخارہ.....................
کس لیے جی؟
فاخرہ بتول
Subscribe to:
Posts (Atom)