data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Tuesday, 22 May 2018

وفا کی جنگ مت کرنا، بہت بیکار جاتی ہے



وفا کی جنگ مت کرنا، بہت بیکار جاتی ہے
زمانہ جیت جاتا ہے، محبت ہار جاتی ہے


ہمارا تذکرہ چھوڑو، ہم ایسے لوگ ہیں جن کو
نفرت کچھ نہیں کہتی، محبت مار جاتی ہے.


Pehle khushbuu ke mizajon ko samajh lo sahib,Phir gulistaan mein kisi gul se mohabbat karna..




Pehle khushbuu ke mizajon ko samajh lo sahib,
Phir gulistaan mein kisi gul se mohabbat karna..



اک لڑکی تھی دیوانی سیکچھ پاگل سیتھوڑی سیانی سی۔



اک لڑکی تھی دیوانی سی
کچھ پاگل سی
تھوڑی سیانی سی۔

تتلیوں کے سنگ اڑنا تھا اس کو
پھولوں کے سنگ کھلنا تھا اس کو

ساغر سے گہری سوچیں اس کو
ساری دنیا ٹوکے اس کو

محبت کرنا شیوا جس کا۔
کیسے وہ بدلے خود کو؟

احساس کو کیسے کھرچے دل سے۔
بے حس کیسے کر لے خود کو؟

لوگ کہیں یہ ٹھوکر کھائے گی۔۔
دنیا سے یہ بہت دکھ پائے گی۔ 

دنیا کے سنگ کیسے چلے وہ؟
خود کو کیسے بدلے وہ؟


نرم دل ہی اللہ کے پیارے ہیں



نرم دل ہی اللہ کے پیارے ہیں

جب تک طاقت اور اختیار ہو
 اللہ کی مخلوق پر احسان کرو
 اورآسانیاں پیدا کرو
 کیونکہ انسان کی طاقت
 اور اختیار ہمیشہ باقی نہیں رہتا..



Hum Ne To Wo Khoya Jo Hamara Tha He Nahi...!



Hum Ne To Wo Khoya 
Jo Hamara Tha He Nahi...!

Magar Usne To Wo Khoya 
Jo Sirf Osi Ka Tha...!


Tu yaar hai tou etni kadwi guftagu na kar!!



Tu yaar hai tou etni kadwi guftagu na kar!! 
Teraa osoool hai tou meraa bhi osoool hai!!!!


Tu dil pe bojhh leke mulaaqhat ko na aaa!!



Tu dil pe bojhh leke 
mulaaqhat ko na aa !! 

Milna hai es tarha to 
bichhadnaa qhabool hai!!

ﻣﯿﺮﮮ ﮬﻤﺴﻔﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ



ﻣﯿﺮﮮ ﮬﻤﺴﻔﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﻭﻗﺖ ﮬﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﯿﻞ ﺳﺎ
ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ، ﺍﺳﮯ ﺟﮭﯿﻠﺘﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮔﺮﺩ ﺳﮯ ﺍﭦ ﮔﺌﯽ
ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺭﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﺌﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺮﻑ ﺳﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ، ﺗﯿﺮﮮ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﭘﺮ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺩﯾﭗ ﺟﻠﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﺎﻡ ﭘﺮ
ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ۔۔۔۔ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﺑﻂ ﺗﮭﺎ ﺩﺭﻣﯿﺎﮞ
ﻭﮦ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﯿﺎ۔۔۔
ﻭﮦ ﮨﻮﺍ ﭼﻠﯽ
ﮐﺴﯽ ﺷﺎﻡ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮﺍ ﭼﻠﯽ
ﮐﮧ ﺟﻮ ﺑﺮﮒ ﺗﮭﮯ ﺳﺮ ﺷﺎﺥ ﺟﺎﮞ
ﻭﮦ ﮔﺮﺍ ﺩﺋﯿﮯ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺣﺮﻑ ﺩﺷﺖ ﺗﮭﮯ ﺭﯾﺖ ﭘﺮ
ﻭﮦ ﺍﮌﺍ ﺩﺋﯿﮯ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﯾﻘﯿﮟ ﺗﮭﮯ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﻣﻨﺰﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ
ﻭﮦ ﻧﺸﺎﻥ ِ ﭘﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﭩﺎ ﺩﺋﯿﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﮨﮯ ﻭﮨﯽ ﺳﻔﺮ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﮌ ﮐﮯ ﻓﺮﻕ
ﺳﮯ
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ
ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮏ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮭﺮ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ
ﮐﺌﯽ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮔﯿﺎ
ﺍﺳﮯ ﻧﺎﭘﺘﮯ، ﺍﺳﮯ ﮐﺎﭨﺘﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﻗﺖ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ
ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻔﺮ ﮐﺎ ﺷﺮﯾﮏ ﮬﮯ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﻔﺮ ﮐﺎ ﺷﺮﯾﮏ ﮬﻮﮞ
ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺩﺭﻣﯿﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ
ﮐﺴﯽ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﮐﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺳﮯ
ﮐﺴﯽ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﮟ ﺳﮯ ﻏﺒﺎﺭ ﺳﮯ
ﮐﺴﯽ ﺭﮦ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺣﺼﺎﺭ ﻣﯿﮟ
ﺗﯿﺮﺍ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮬﮯ
میرارﺍﺳﺘﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮬﮯ


محبت اس طرح جیسے گلابی تتلیوں کے پر



محبت اس طرح جیسے گلابی تتلیوں کے پر
محبت زندگی کی جبیں ناز کا جھومر
محبت آرزو کی سیپ کا انمول سا گوھر
محبت آس کی دھوپ میں امید کی چادر محبت ھے 
تمھاری پلکیں 
تہھاری آنکھیں 
تمھاری باتیں 
محبت ھے تمھارے ہجر کی اور وصل کی باتیں 
محبت ھے تمھاری دھڑکن
محبت ھے تمھاری سانسیں 
محبت تمھاری خاموشی 
تمھاری بات جیسی ھے 
محبت کو اگر سمجھو
تو تمھاری ذات جیسی ھے


بگڑ کے مجھ سے وہ ميرے لئے اُداس بھي ہے



بگڑ کے مجھ سے وہ ميرے لئے اُداس بھي ہے
وہ زودِ رنج تو ہے، وہ وفا شناس بھي ہے

تقاضے جِسم کے اپنے ہيں، دل کا مزاج اپنا
وہ مجھ سے دور بھي ہے، اور ميرے آس پاس بھي ہے

نہ جانے کون سے چشمے ہيں ماورائےِ بدن
کہ پا چکا ہوں جسے، مجھ کو اس کي پياس بھي ہے

وہ ايک پيکرِ محسوس، پھر بھي نا محسوس
ميرا يقين بھي ہے اور ميرا قياس بھي ہے

حسيں بہت ہيں مگر ميرا انتخاب ہے وہ
کہ اس کے حُسن پہ باطن کا انعکاس بھي ہے

نديم اُسي کا کرم ہے، کہ اس کے در سے ملا
وہ ايک دردِ مسلسل جو مجھ کو راس بھي ہے