data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Tuesday, 22 May 2018

گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی



گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی
میرے خطوط کے ٹکڑے تلاش کرتی تھی

بھولے گا کون اذیت پسندیاں اس کی
خوشی کے ڈھیر میں صدمے تلاش کرتی تھی

عجب ھجر پرستی تھی اس کی فطرت میں
شجر کے ٹوٹے پتے تلاش کرتی تھی

قیام کرتی تھی وہ مجھ میں صوفیوں کی طرح
اداس روح کے گوشے تلاش کرتی تھی

تمام رات وہ پردے ھٹا کے چاند کے ساتھ
جو کھو گئے تھے وہ لمحے تلاش کرتی تھی

کچھ اس لیےبھی میرےگھرسےاس کو تھی وحشت
یہاں بھی اپنے ہی پیارے تلاش کرتی تھی

گھما پھرا کے جدائی کی بات کرتی تھی
ھمیشہ ہجر کے حربے تلاش کرتی تھی

تمام رات وہ زخما کے اپنی پوروں کو
میرے وجود کے ریزے تلاش کرتی تھی

دعائیں کرتی تھی اجڑے ھوئے مزاروں پر
بڑی عجیب سحر تلاش کرتی تھی

مجھے تو اب بتایا ھے بادلوں نے وصی “
وہ لوٹ آنے کے راستے تلاش کرتی تھی




نقاب اُٹھائے تو دُشمن سلام کر دے گاجمالِ یار محبت کو عام کر دے گا



نقاب اُٹھائے تو دُشمن سلام کر دے گا
جمالِ یار محبت کو عام کر دے گا

یہ دُھوپ ، چھاؤں کے موسم ہیں اُس کی مٹھی میں
اَگر ضَروری لگا ، دِن میں شام کر دے گا

ہے کوہ قاف پہ اُس شوخ گُل کا ذِکر حرام
کہ ننھی پریوں کو یہ بے لگام کر دے گا

طلسمِ مصر ہے اُس کے حسین ہاتھوں میں
جو وُہ بنائے تو چائے کو جام کر دے گا

نہ چھوڑ اِس قَدَر آزاد اَپنی آنکھوں کو
یہ کام تجھ کو کسی کا غلام کر دے گا

تمام رات فقط چاند دیکھتے رہنا
تمہارا کام کسی دِن تمام کر دے گا

غزل ، صنم پہ سبھی لکھتے ہیں مگر مجنوں!
کتاب لکھے گا ، لیلیٰ کے نام کر دے گا

خدا کے واسطے ، اُمید کی حفاظت کر
خدا نے چاہا تو دُشمن بھی کام کر دے گا

اُداس ہو تو غزل اور بھی سناؤں حُضور؟
جو مسکراؤ تو قیس اِختتام کر دے گا۔​


Wo kehti hai karo wada meri ankhon mein rehne ka



ﻭﮦ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﺮﻭ ﻭﻋﺪﮦ ! ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﺮﻭ ﻭﻋﺪﮦ ! ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎﺅ ﮔﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮩﺎﮞ ﻗﺴﻤﺖ ﭘﮧ ﮐﺲ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﺮﻭ ﻭﻋﺪﮦ ! ﻣﺮﮮ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﺅ ﮔﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍ ﮐﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ

ﻭﮦ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﺮﻭ ﻭﻋﺪﮦ ! ﺳﺪﺍ ﯾﻮﮞ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻢ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺭﮨﻮ ﻣﯿﺮﯼ

ﻭﮦ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﺮﻭ ﻭﻋﺪﮦ ! ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﮔﻮ ﮔﮯ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﺟﺎﮔﺘﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮ؟

ﻭﮦ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﺮﻭ ﻭﻋﺪﮦ ! ﮐﺒﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﭼﮭﭙﺎﺅ ﮔﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﮭﯿﺪ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ

ﻭﮦ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﺮﻭ ﻭﻋﺪﮦ ! ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﮐﻮﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ؟

ﻭﮦ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﺮﻭ ﻭﻋﺪﮦ ! ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﻮ ﮔﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﺘﺎﺅ ﻧﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﻞ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ہے

ﻭﮦ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﺮﻭ ﻭﻋﺪﮦ ! ﮐﺒﮭﯽ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﻭ ﮔﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﮭﻼ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ

ﻭﮦ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﺮﻭ ﻭﻋﺪﮦ ! ﺧﯿﺎﻝ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﮐﮭﻮﮔﮯ ﺗﻢ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺮﯼ ﻋﺎﺩﺕ ﺑﮕﺎﮌﯼ ﺗﮭﯽ

ﻭﮦ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﺮﻭ ﻭﻋﺪﮦ ! ﮐﺒﮭﯽ ﻭﻋﺪﮦ ﻧﮧ ﺗﻮﮌﻭ ﮔﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ


ﻣﻦ ﻣﮩﮑﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ



ﻣﻦ ﻣﮩﮑﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ
ﮐﻮﻥ ﺭﮨﺘﺎ ﮬﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﺎ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ


شکستـہ دل ہوں مگر مسکرا کے ملتا ہوں



شکستـہ دل ہوں مگر مسکرا کے ملتا ہوں۔۔
اگر یہ فن ہے، تو آیا ہے ایک عذاب کے بعد


"یہ عشق''''جس کے قہر سے ڈرتا ہے زمانہ...!!!



"یہ عشق''''جس کے قہر سے ڈرتا ہے زمانہ...!!!
"کمبخت میرے صبر کے ٹکڑوں پہ پلا ہے...!!!


تُجھ سے پہلے بھی کئی زخم تھے سینے میں مگر



تُجھ سے پہلے بھی کئی زخم تھے سینے میں مگر!
اب کے وہ درد ہے دل میں کہ رگیں ٹوٹتی ہیں


اُداس شام کے سائے میں یوں بھی ہوتا ہے



اُداس شام کے سائے میں یوں بھی ہوتا ہے
میں جاگتا ہوں تو ۔۔ میرا نصیب سوتا ہے


جو تیرے نام کو رُسوائیوں سے جوڑ گیا
تُو اسکی یاد کو پلکوں میں کیوں پروتا ہے 

کچھ اور لوگ بھی مجھ سے ہیں اِس زمانے میں
تُو میرے غم میں بھلا کیوں اُداس ہوتا ہے 

دیکھ طارق کو زمانے کی نظر لے ڈُوبی
اسلئیے راتوں کی تنہائیوں میں روتا ہے


اداس شام کے سائے میں یوں بھی ہوتا ہے
میں جاگتا ہوں تو میرا نصیب سوتا ہے ۔


چوما ہے اپنی آنکھوں کو رکھ رکھ کر آئینے میں



چوما ہے اپنی آنکھوں کو رکھ رکھ کر آئینے میں
آج پھر خواب میں ہوئی ہے زیارت جناب کی



کوئی اور اب نگاہ میں سماں نہیں سکتا



کوئی اور اب نگاہ میں سماں نہیں سکتا 
اک شخص کی نظر پابند کر گئی ہے مجھے