data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Thursday, 31 October 2019

Log seene mein qaid rakhte hain Hum ne sar pe charha lia dil ko






Log seene mein qaid rakhte hain
Hum ne sar pe charha lia dil ko






Har waqt meri tilash mein rehti hai teri yaad tu ne mere wajud ki tanhai bhi cheen lee







ہر وقت میری تلاش میں رہتی ہے تیری یاد تو نے میرے وجود کی تنہائی بھی چھین لی





Muhabbat ko nikah ki poshaak se motabar ki jiye dosti k naam par be-libas nahi







محبت کو نکاح کی پوشاک سے معتبر کیجیے دوستی کے نام پر بے لباس نہیں






Aj malboos mein hai kesi thakan ki khushbu raat bhar jagi hui jese dulhan ki khushbu







آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو رات بھر جاگی ہوئی جیسے دلہن کی خوشبو پیراہن میرا مگر اس کے بدن کی خوشبو اس کی ترتیب ہے ایک ایک شکن کی خوشبو





Mile ga kya dil'on mein nafratein rakh kar boht mukhtasir hai zindagi muskura kar mila karo







ملے گا کیا دلوں میں نفرتیں رکھ کر۔۔ بہت مختصر ہے زندگی مسکرا کر ملا کرو





sar pe jo qarz hai utaroon kese zindagi mil to gai hai guzaroon kese





سر پہ جو قرض ہے، اُتاروں کیسے؟
زِندگی مِل تو گئی ہے، گُزاروں کیسے؟


بگڑے ہوئے سب کام سنوار لیتی ہوں
بگڑا ہوا نصیب، سنواروں کیسے؟





Tuesday, 29 October 2019

2 line urdu poetry






دنیا سے کہو جو اسے کرنا ہے وہ کر لے اب دل میں مرے وہ علیٰ الاعلان رہے گا

~~~

وہ چند لمحے جو گزرے تیری رفاقت میں نہ جانے کتنے برس میرے............ کام آئے

~~~

شخص اچھا تھا مگر اُس کی رفاقت نے وقت سے پہلے کیا عمر رسیدہ مجھ کو

~~~

دیکھ ساقی کیسے بستا ھے عشق وجود میں سلطنت میری ھے رگ رگ پہ حکومت یار کی

~~~

تجھ سے ملنے کی دیر ہے جاناں زندگی، مجھ میں لوٹ آئے گی

~~~

میں نے اس درجہ محبت سے پکاراء ہے آپکو جیسے مجنوں نے کہا ہو ہائے لیلیٰ

~~~

ﺳﮑﻮﺕِ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﺨﯿﮟ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺗُﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻋﺠﺐ ﺷﻮﺭ ﺑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ

~~~

قصہ آج ختم کیجئے ہم پسند ہے تو اظہار کیجئے

~~~

تو سمجھتا تھا فضول ہمیں
اب ہمت کر اور بھول ہمیں

~~~

گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے پہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے

~~~

تیری نظر انداز نظروں پر اپنی آنکھیں وار دوں

~~~

Tu yad aaya ha to chal hans detiii hu Ab ro kr kia teri yad ko rusva karna

~~~

ﻣﯿﮟ ﻧﺮﻡ ﻣﭩﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﺭﻭﻧﺪ ﮐﺮ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺅ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺎﺯ ﺗﻮ ﺑﺲ ﮐﻮﺯﮦ ﮔﺮ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ

~~~

کوئی دعوا نہیں تعلق کا
رحم کی التماس ہے آجا

~~~

مجھے اب ڈر نہیں لگتا مقدر کے صحیفوں سے جہاں لکھی تھی محرومی ، وہ کاغذ پلٹ گیا ہے

~~~

یہی دل تھا جو ترستا تھا مراسم کے لیے اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے

~~~

مُجھے کھینچتا ہے کئی بہانوں سے ایک جادُو جو تیری ذات میں ہـے

~~~

وہ جو ہر بات پہ قہقہہ لگاتا ہے سارے آنسو ہی رو چکا ہوگا

~~~~