data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Sunday, 14 October 2018

hoa to kuch bhi nahi, bas Thore se maan tute hain, Thore se khwab tute or bas kisi apne ne rulaya hai, urdu poetry





ہوا تو کچھ بھی نہیں 
بس تھوڑے سے مان ٹوٹے ہیں 
تھوڑے سے خواب ٹوٹے ہیں 
تھوڑے سے لوگ بچھڑے ہیں
ہوا تو کچھ بھی نہیں

بس تھوڑی سی نیندیں اڑ گئی ہیں 
تھوڑی سی خوشیاں چھن گئی ہیں 
تھوڑا سا چین گنوایا ہے 

ہوا تو کچھ بھی نہیں  

بس اپنا آپ گنوایا ہے 
آنکھوں کو برسنا سکھایا ہے 
محبتوں کا صلہ پایا ہے 

ہوا تو کچھ بھی نہیں 
بس کسی اپنے نے رلایا ہے




Friday, 12 October 2018

andaz e muhabbat hai bara nat khat os ka, Bahon mein gir k kehta hai sanbhalo mujh ko, urdu poetry



انداز محبت هے بڑا نٹ کهٹ اسکا 
..بانہوں میں گر کے کہتا هے سنبهالو مجهے


tha or kon jahan bhar mein Ashna apna, Tujhe bhi Yaad na Karte to or kya Karte, urdu poetry




ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﺷﻨﺎ ﺍﭘﻨﺎ 
ﺗﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ


Aj malboos mein hai kesi thakan ki Khushbu, raat bhar jagi hui jese Dulhan ki Khushbu, urdu poetry





آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو 
رات بھر جاگی ہوئی جیسے دُلہن کی خوشبو 

پیرہن میرا مگر اُس کے بدن کی خوشبو 
اُس کی ترتیب ہے ایک ایک شکن کی خوشبو 

موجۂ گُل کو ابھی اِذنِ تکلم نہ ملے 
پاس آتی ہے کسی نرم سخن کی خوشبو 

قامتِ شعر کی زیبائی کا عالم مت پُوچھ 
مہربان جب سے ہے اُس سرد بدن کی خوشبو 

ذکر شاید کسی خُورشید بدن کا بھی کرے 
کُو بہ کُو پھیلی ہُوئی میرے گہن کی خوشبو 

عارضِ گُل کو چھُوا تھا کہ دھنک سی بکھری 
کِس قدر شوخ ہے ننھی سی کرن کی خوشبو 

کِس نے زنجیر کیا ہے رمِ آہو چشماں 
نکہتِ جاں ہے انہیں دشت و دمن کی خوشبو 

اِس اسیری میں بھی ہر سانس کے ساتھ آتی ہے 
صحنِ زنداں میں انہیں دشت وطن کی خوشبو




Allah , zindagi, muhabbat, Husn, zameen, Main or Tum, saat (7) alfaz ki kahani, urdu poetry




ایک بار جبران نے کہا 
فرض کرو

 تم ہر چیز سے دستبردار ہونے پر
 مجبور کر دی جاؤ

 اور تمھیں سوائے سات الفاظ کے
 سب کچھ بھلانا پڑ جائے،

 تو تمھارے وہ سات الفاظ کیا ہونگے۔
 جن کا تم انتخاب کروگی؟۔ 


میں نے سوچا اور بس پانچ الفاظ بتا سکی
 جو یہ تھے 

 اللہ، زندگی، محبت، حُسن، زمین “۔
اور میں نے پھر جبران کی طرف دیکھ کر کہا 

“ باقی دو الفاظ کیا ہو سکتے ہیں ؟“۔ 
تب اس نے کہا کہ باقی دو اہم الفاظ ہیں 

“ میں اور تم “



boht takleef deta hai kisi ko alvida kehna, urdu poetry




بہت تکلیف دیتا ہے 
کسی کو الوداع کہنا 

دکھائی کچھ نہیں دیتا 
سنائی کچھ نہیں دیتا 

فقط کچھ کپ کپاتے لفظ 
ہونٹوں پر ٹہر جاںٌیں 

ابھرتی ڈوبتی دھڑ کن 
اسے آواز دیتی ہے 

کوئی اپنا کہ جس کا نام 
اپنے دل پہ لکھا ہو 

جس کے واسطے دل سے 
دعاہیں ہی نکلتی ہو 

بہت تکلیف دیتا ہے 
اسی کو الوداع کہنا 

جس کو دل میں بسایا ہو 
برے ہی مان سے 

جس کو اپنا بنایا ہو 
بہت تکلیف دیتا ہے
اسی کو الوداع کہنا




Mere pas janaa kuch Nahi, urdu poetry



میرے پاس جاﻧﺎں کچھ نہیں 
نہ جدائیاں نہ وصال کے پل

میری دسترس میں تو کچھ نہیں
کچھ اشک ہیں اک یاد ہے

اک دل ہے جو برباد ہے
اور شہر سنگ کے لوگ ہیں

میرے چاروں اور ہی درد ہیں 
میرے ہمقدم بڑے روگ ہیں




maslak e ishq ka namazi hoon, khaak hoon mujh ko khaak rehne dein, urdu poetry


ﻣﺴﻠﮏِ ﻋﺸﻖ کی ﻧﻤﺎﺯﯼ ﮨﻮﮞ
ﺧﺎﮎ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮑﻮ ﺧﺎﮎ ﺭﮨﻨﮯ دے 

ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﻠﮏ ﺣﺪﯾﺚِ ﺩﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﻣﺠﮭﮑﻮ ﻓِﺮﻗﻮﮞ ﺳﮯ پاک رہنے دے




عشق ، محبت اور پیار کے موضوع پر خوبصورت اردو شاعری









عشق ، محبت اور پیار کے موضوع پر
 خوبصورت اردو شاعری

کسی مانوس لمحے میں ، کسی مانوس چہرے سے
محبت کی نہیں جاتی محبت ہو  جاتی ہے

~~~


مجھے کانٹا چبھے اور تیری آنکھوں سے لہو ٹپکے
تعلق ہو تو ایسا ہو ، محبت ہو تو  ایسی ہو

~~~



نہیں پسند محبت میں ملاوٹ مجھ کو
 اگر وہ میرا ہے تو خواب بھی میرے دیکھے

~~~



تسکین محبت کے فقط دو ہی طریقے تھے
یا دل نہ بنا ہوتا ۔ یا تم نہ بنے ہوتے

~~~


دل و دماغ متفق نہ ہوئے پاک و ہند کی طرح
یہ محبت تو مجھے مسئلہ کشمیر لگتی ہے

~~~



مجھ  میں تھوڑی سی جگہ بھی نہیں نفرت کے لیے
میں تو ہر وقت محبت سے بھرا رہتا ہوں

~~~



کچھ خاص نہیں بس اتنی سی ہے داستان محبت میری
 ہر رات کا آخری خیال، ہر صبح کی پہلی سوچ ہو تم

~~~



جو دو اجازت تو تم سے اک بات پوچھیں
جو سیکھا تھا ہم سے، وہ عشق اب  کس سے کرتے ہو

~~~



میں نے کب مانگا ہے تم سے اپنی وفاؤں کا صلہ
بس درد دیتے رہو، محبت بڑھتی  رہے گی

~~~



ہم تو محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فرازؔ
 ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھا​ ہے

~~~



سو بار کہا میں نے انکار ہے محبت سے
ہر بار صدا آئی تم دل سے نہیں کہتے

~~~



کی محبت تو سیاست کا چلن چھوڑ دیا
ہم اگر عشق نہ کرتے تو حکومت  کرتے

~~~



نیند بھی نیلام ہو جاتی ہے بازار عشق میں
 اتنا آسان نہیں ہوتا کسی کو بھول جانا

~~~



کوئی تو بات ہے آخر میری مہمان نوازی میں
کہ غم ایک بار آتے ہیں تو پھر واپس  نہیں جاتے

~~~



دو قدم اگر ساتھ چلنا ہے تو ذرا سوچ لینا
ہم محبت اور نفرت میں قبر تک  ساتھ دیتے ہیں

~~~



کب دعاؤں کا محتاج ہوتا ہے
 عشق تو لا علاج ہوتا ہے



عشق کے اپنے اصول ہوتے ہیں
 عشق کا اپنا روج ہوتا ہے



عشق کے عین سے عبادت ہے
 عشق روح کا اناج ہوتا ہے



عشق جسموں کو سر نہیں کرتا
 عشق کا ذہنوں پر راج ہوتا ہے



عشق میں شاہ فقیر ہوتے ہیں
 عشق کانٹوں کا تاج ہوتا ہے



عشق میں کوئی حد نہیں ہوتی
 عشق میں نہ کل نہ آج ہوتا ہے



عشق خود ہی ظلم کرتا ہے
 عشق خود ہی احتجاج ہوتا ہے

~~~



سنا ہے مل جاتی ہے ہر چیز دعا سے
 اک بار تمہیں مانگ کر دیکھیں گے خدا سے

~~~



ترک عشق میری لغت میں نہیں ہے
تیرا یہ لفظ میرے سر سے گزر جاتا ہے

~~~



اس لفظِ محبت کا اتنا سا فسانہ ہے
 سمٹے تو دلِ عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے​

~~~



محبت کرو تو آداب محبت بھی سیکھو
فارغ وقت کی بیقراری محبت نہیں ہوتی

~~~



محبت مل نہیں سکتی، مجھے معلوم ہے صاحب
 مگر خاموش بیٹھا ہوں، محبت کرجو بیٹھا ہوں

~~~



جو محبت کا راستہ روکے
 ایسے ہر ضابطے پہ لعنت ہو

~~~



کس نے کہا تجھے کہ انجان بن کے آیا کر
 میرے دل کے آئینے میں مہمان بن کے آیا کر

 پاگل اک تجھے ہی تو بخشی ہے دل کی حکومت
 یہ تیری سلطنت ہے تو سلطان بن کے آیا کر

~~~



محبت کر کے دیکھی ہے محبت صاف دھوکہ ہے
 یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ، کون کسی کا ہوتا ہے

~~~



ہم کو آتا نہیں زخموں کی نمائش کرنا
خود ہی روتے ہیں تڑپتے ہیں سو جاتے ہیں

~~~



ہم ہی کو کیوں دیتے ہو پیار کا الزام
 کبھی خود سے بھی پوچھو! اتنے پیارے کیوں ہو؟

~~~



محبت معانی و الفاظ میں لائی نہیں جاتی
 یہ وہ نازک حقیقت ہے جو سمجھائی نہیں جاتی​

~~~



جو آنکھ بھی ملانے کی اجازت نہیں دیتا
 دل اس کو نظروں میں بسانے پہ تلا ہے

~~~



تجھ سے عشق کر لیا اب خسارہ کیسا
دریائے محبت میں جو اتر گئے اب کنارہ کیسا

~~~

اک بار تیرے ہو گئے، بس ہو گئے
روز روز کرنا نیا استخارہ کیسا

~~~



خوشیوں کا وقت بھی کبھی آ ہی جائے گا
 غم بھی تو مل رہے ہیں تمنا کئے بغیر

~~~



تم یاد نہیں کرتے تو ہم گلہ کیوں کریں
 خاموشی بھی تو اک ادا ہے محبت نبھانے کی

~~~



مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
 اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

~~~



حال جب بھی پوچھو خیریت بتاتے ہیں
لگتا ہے محبت چھوڑ دی انہوں نے

~~~



اک تیری محبت کی خاطر
 جانے کس کس کا احترام کیا

~~~



آؤ کبھی یوں بھی میرے پاس تم ایسے
 کہ آنے میں لمحہ اور جانے میں زندگی گزر جائے

~~~



دنیا تیرے وجود کو کرتی رہی تلاش
 ہم نے تیرے خیال کو دنیا بنا لیا

~~~



دشمنوں سے محبت ہونے لگی مجھ کو
جیسے جیسے اپنوں کو آزماتے چلے گئے

~~~



کوئی پوچھتا ہے مجھ سے میری زندگی کی قیمت
 مجھے یاد آ جاتا ہے تیرا ہلکا سا مسکرانا

~~~



تیرے عشق میں ہوئے ایسے متوالے
 چھوڑ دی تسبیح توڑ دیئے پیالے

~~~



استادِ عشق سچ کہا تو نے، بہت نالائق ہوں میں
مدت سے اک شخص کو اپنا بنانا نہیں آیا

~~~



یوں وفا کے سلسلے مسلسل نہ رکھ کسی سے
 لوگ ایک خطا کے بدلے، ساریوفائیں بھول جاتے ہیں

~~~



میں نے دل کے دروازے پہ لکھا اندر آنا منع ہے
عشق مسکراتا ہوا بولا معاف کرنا  میں اندھا ہوں

~~~



پوچھتا ہے جب کوئی کہ دنیا میں محبت کہاں ہے
 مسکرا دیتا ہوں میں اور یاد آ جاتی ہے ماں

~~~



محبت مجھے تجھ سے نہیں تیرے کردار سے ہے
ورنہ حسین لوگ تو بازار میں عام بکا کرتے ہیں

~~~



اتر جاتے ہیں کچھ لوگ دل میں اس قدر
 جن کو دل سے نکالو تو جان چلی جاتی ہے

~~~



اُنہیں یہ شوق ہے کہ محبت کی بھیک میں مانگوں
 مجھے یہ ضد کہ تقاضہ میرا  اُصول نہیں

~~~



اس کی آنکھوں میں نظر آتا ہے سارا جہاں مجھ کو
 افسوس کہ اُن آنکھوں میں کبھی خود کو نہیں دیکھا

~~~



بکھرا وجود،ٹوٹے خواب، سلگتی تنہائیاں
کتنے حسین تحفے دے جاتی ہے یہ محبت

~~~



لپٹا ہے میرے دل سے کسی راز کی صورت
 وہ شخص کہ جس کو میرا ہونا بھی نہیں ہے

~~~

 یہ عشق و محبت کی روایت بھی عجیب ہے
 پانا بھی نہیں ہے اسے کھونا بھی نہیں ہے

~~~



ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
 ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

~~~



ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام تیرا
کوئی تجھ سا ہو تو نام بھی تجھ سا رکھے

~~~



ابتدائے عشق ہے بچو روتا ہے کیا
 آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

~~~



یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے
 اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

~~~



تیرے عشق کی انتہا چانتا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

~~~



مجھ میں بے لوث محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
 تم اگر چاہو تو میری سانسوں کی تلاشی لے لو

~~~



وقت اور وہ دو ہی گواہ تھے میری محبت کے
ایک گزر گیا ۔ ۔ ۔ ۔ دوسرا مکر گیا

~~~



بات بات پر مسکراتے ہو کیوں بار بار
 جان لینے کے طریقے تو اور بھی بہت ہیں

~~~



حسن کا کیا کام ، سچی محبت میں
آنکھ مجنوں ہو تو۔۔۔ ہر لیلیٰ حسین لگتی ہے

~~~



الزام محبت کے ڈر سے چھوڑ دیا شہر اپنا
 ورنہ یہ چھوٹی سی عمر پردیس کے قابل تو نہ تھی

~~~



تم کیا جانو محبت کے میم کا مطلب
اگر مل جائے تو معجزہ نہ ملے تو موت

~~~



آنکھوں سے شروع ہو کر کہانی الفت تک جا پہنچی
 جب ہم کو ہوش آیا تو بات محبت تک جا پہنچی

~~~



محبت ملی تو نیند بھی اپنی نہ رہی فراز
 گمنام زندگی تھی تو کتنا سکون تھا

~~~



آپ کو ان اشعار میں سے کون سا شعر
 سب سے اچھا لگا ہے، کمنٹس کیجیے،

~~~

کمنٹس میں آپ اپنی پسند کا شعر بھی لکھ سکتے ہیں،
 اگر آپ کو یہ پوسٹ اچھی لگی ہے
 تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔



Thursday, 11 October 2018

sar e rah kuch bhi kaha Nahi, kabhi os k ghar main Gaya Nahi, urdu poetry




سر راہ کچھ بھی کہا نہیں 
کبھی اس کے گھر میں گیا نہیں
میں جنم جنم سے اسی کا ہوں
 اسے آج تک یہ پتا نہیں


اسے پاک نظروں سے چومنا بھی
 عبادتوں میں شمار ہے
کوئی پھول لاکھ قریب ہو 
کبھی میں نے اس کو چھوا نہیں


یہ خدا کی دین عجیب ہے 
کہ اسی کا نام نصیب ہے
جسے تو نے چاہا وہ مل گیا
 جسے میں نے چاہا ملا نہیں


اسی شہر میں کئی سال سے
 مرے کچھ قریبی عزیز ہیں 

انہیں میری کوئی خبر نہیں
 مجھے ان کا کوئی پتا نہیں