data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Tuesday, 24 March 2020

Ya mjhe afsar-e-shahana banaya hota



یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نے
کیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا
خاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھے
کاش خاک در جانانہ بنایا ہوتا
نشۂ عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو
عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا
دل صد چاک بنایا تو بلا سے لیکن
زلف مشکیں کا ترے شانہ بنایا ہوتا
صوفیوں کے جو نہ تھا لائق صحبت تو مجھے
قابل جلسۂ رندانہ بنایا ہوتا
تھا جلانا ہی اگر دورئ ساقی سے مجھے
تو چراغ در مے خانہ بنایا ہوتا
شعلۂ حسن چمن میں نہ دکھایا اس نے
ورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا
روز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفرؔ
ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا


Beenai na thi to dekhte thy sab kuch



Beenai na thi to dekhte thy sab kuch
Jab Ankh khulli to kuch na dekha hum ne




Sunday, 22 March 2020

فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں






فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں

فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں

فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو

فرض کرو ابھی اور ہو اتنی،آدھی ہم نے چھپائی ہو

فرض کرو تمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں

فرض کرو یہ نین تمھارے سچ مچ کے میخانے ہوں

فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پیت ہماری ہو

فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پہ بھاری ہو

فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو

فرض کرو بس یہی حقیقت، باقی سب کچھ مایا ہو۔



کوئی لرزی ہوئی دستک برابر آئے جاتی ہے




کوئی لرزی ہوئی دستک برابر آئے جاتی ہے کسی نے آخری حد تک کوئی در کھٹکھٹایا تھا



میں تو قائم ہوں تیرے غم کی بدولت ورنہ




میں تو قائم ہوں تیرے غم کی بدولت ورنہ یوں بکھر جاؤں کہ خود ہاتھ نہ آؤں اپنے



تجھے گنوا کے بھری کائنات سے بھی گئے




سکون کے دن سے، فراغت کی رات سے بھی گئے تجھے گنوا کے بھری کائنات سے بھی گئے خیال تھا کہ تجھے پا کے خود کو ڈھونڈیں گے تُو تو مل نہ سکا خود اپنی ذات سے بھی گئے



آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں دل میری جان، مر گیا کب کا




آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں دل میری جان، مر گیا کب کا


ہم یوں سنائے ہیں اس کو اپنا حالِ دل




ہم یوں سنائے ہیں اس کو اپنا حالِ دل جیسے کوئی غریب اپنا کُل اثاثہ دکھائے ہے وہ یوں سنے ہے ہم سے ہمارا حالِ دل جیسے کسی یتیم پر ترس کھائے ہے



روز کہتا ہوں بھول جاؤں تجھے روز یہ بات بھول جاتا ہوں



روز کہتا ہوں بھول جاؤں تجھے روز یہ بات بھول جاتا ہوں



زمیں کے اندر آرام گاہوں میں سونے والے مصوروں کو



زمیں کے اندر آرام گاہوں میں سونے والے مصوروں کو کہاں خبر تھی کہ بعد ان کے تمام منظر،
سبھی تصور ادھورے ہونگے دعائیں عمروں کی دینے والوں کو کیا خبر تھی دراز عمری عذاب ہوگی