Shab-e-Hijr ki sakhtian koi os se ja k puchy
Teri Rah takte takte jisy Subha ho gai hai
شب ہجر کی سختیاں کوئی اس سے جا کے پوچھے
تیری راہ تکتے تکتے جسے صبح ہوُ گئ ہے
ﻭﻓﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺳﯿﮑﮭﻮ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﯼ ﻣﯿﮟ
ﺻﺮﻑ ﺩِﻝ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ، ﺩِﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﮯ
یوں آؤ مقدر میں, کہ پا کر تمہیں
عمر باقی خدا کے شکر میں گزرے
روٹهنا منانا _______________سر آنکهوں پر
لیکن محبت میں شامل کوئى تیسرا نہ ہو
آئینہ کہتا ہے، کہنا تو نہیں چاہیے تھا
تُو ابھی زندہ ہے؟ رہنا تو نہیں چاہیے تھا