data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Tuesday, 15 August 2023

وہ تیرا صدقہ تو اُتارتے ہوں گے

وہ تیرا صدقہ تو اُتارتے ہوں گے
تُو جنہیں مُسکرا کہ ملتا ہے

ایک ہی شخص ہوتا ہے وفا کے قابل


ایک ہی شخص ہوتا ہے وفا کے قابل
سب کے پیچھے ایمان گنوایا نہیں کرتے

یہ نرم لہجہ ، پیاری باتیں ،تیرے لیے ہیں



یہ نرم لہجہ ، پیاری باتیں ،تیرے لیے ہیں
ہم اس لہجے میں سب سے بات نہیں کرتے

Thursday, 3 August 2023

کریم ہے تو مری لغزشوں کو پیار سے دیکھ



کریم ہے تو مری لغزشوں کو پیار سے دیکھ
رحیم ہے تو سزا و جزا کی حد سے نکل

احمد فراز 

Monday, 17 July 2023

ہزار بار مِلو ـــــــــ پِھر بھی آشنا نہ لگے


وُہ اِس ادا سے جو آئے تو کیوں بَھلا نہ لگے
ہزار  بار  مِلو ـــــــــ پِھر  بھی  آشنا  نہ  لگے

کبھی وہ خاص عِنایت کہ سو گُماں گُزریں
کبھی  وہ  طرزِ  تغافل ،  کہ  محرمانہ  لگے

وہ سیدھی سادی ادائیں کہ بِجلیاں برسیں
وہ   دِلبرانہ   مروّت  ،   کہ    عاشقانہ    لگے

دکھاؤں داغِ مُحبّت جو نا گوار نہ ہو
سُناؤں قصّۂ فُرقت ، اگر  بُرا  نہ  لگے

بہت ہی سادہ ہے تُو ، اور زمانہ ہے عیّار
خُدا کرے ، کہ تُجھے شہر کی ہَوا نہ لگے

بُجھا نہ دیں یہ مُسلسل اُداسیاں دِل کی
وہ بات  کر  کہ  طبیعت  کو  تازیانہ  لگے

جو گھر اُجڑ گئے، اُن کا نہ رنج کر پیارے
وہ چارہ کر ، کہ یہ گُلشن اُجاڑ سا نہ لگے

عتابِ  اہلِ  جہاں  سب  بُھلا  دِئے ، لیکن
وہ زخم یاد ہیں اب تک ، جو غائبانہ لگے

وہ رنگ دِل کو دِئے ہیں لہُو کی گردِش نے
نظر   اُٹھاؤں ،  تو   دُنیا   نِگار خانہ   لگے

عجیب خُواب دِکھاتے ہیں، ناخُدا ہم کو
غرض یہ ہے کہ سفِینہ کِنارے جا نہ لگے

لیے ہی جاتی ہے ہر دَم کوئی صدا ناصرؔ
یہ اور بات ــــــ سُراغِ  نشانِ  پا  نہ  لگے

شاعر : ناصرؔ کاظمی

Tuesday, 11 July 2023

gham hai ya khushi hai tu meri zindagi hai tu



غَم ہے یا خُوشی ہے تُو
میری   زندگی   ہے   تُو

آفتوں  کے  دَور  میں
چَین کی گھڑی ہے تُو

میری  رات  کا  چراغ
میری نیند بھی ہے تُو

مَیں خزاں کی شام ہُوں
رُت   بہار   کی   ہے   تُو

دوستوں کے دَرمیاں
وجۂ دوستی  ہے  تُو

میری ساری عُمر میں
ایک  ہی  کمی  ہے  تُو

مَیں تَو وُہ نہِیں رہا
ہاں، مگر وُہی ہے تُو

ناصرؔ اِس دیار میں 
کِتنا  اَجنبی  ہے  تُو

شاعر : ناصرؔ کاظمی
(دِیوان)

Monday, 3 April 2023

وہ عشق ہی کیا جو سلامت چھوڑے



شکوہ کرتے ہیں لوگ بچھڑنے کا، بکھرنے کا 
وہ عشق ہی کیا جو سلامت چھوڑے

urdu poetry



یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر
ہم لوگ تو اُکتا گئے، اپنی سُنا! آوارگی

niyat e shoq bhar na jaiy kahin tu bhi dil se utar na jaiy kahin

نیتِ  شوق  بَھر   نہ  جائے  کہیں
تو بھی دِل سے اُتر نہ جائے کہیں

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج  کا  دِن   گُزر  نہ  جائے  کہیں

نہ مِلا کر  اُداس  لوگوں  سے !
حُسن تیرا بِکھر نہ جائے کہیں

آرزو   ہے  ،   کہ  تو   یہاں   آئے
اور پھر عُمر بَھر نہ جائے کہیں

جی جلاتا ہُوں ، اور سوچتا ہُوں
رائیگاں  یہ  ہُنر  نہ  جائے  کہیں

آو کچھ دیر رو ہی لیں ناصرؔ
پھر یہ دَریا اُتر نہ جائے کہیں

شاعر : ناصرؔ کاظمی
(دِیوان)