data-ad-format="auto" data-full-width-responsive="true">

Tuesday, 24 March 2020

os ne mail ba karam ho k bulaya hai mujhe




اس نے مائل بہ کرم ہو کے بلایا ہے مجھے
آج پھر دل نے یہ افسانہ سنایا ہے مجھے
سرد مہری پہ بھی ہوتا ہے توجہ کا گماں
اس طرح اس نے توقع پہ لگایا ہے مجھے
یوں تو فطرت میں بھی آشفتہ مزاجی تھی مری
اصل میں آپ نے دیوانہ بنایا ہے مجھے
پردہ داری تھی اسے ربط نہاں کی منظور
بزم میں اپنی بہت دور بٹھایا ہے مجھے
یہ مرے زعم بلندی کی سزا ہے شاید
اس نے کچھ سوچ کے نظروں سے گرایا ہے مجھے



Sau jaan se ho jaow ga razi main saza par




Sau jaan se ho jaow ga razi main saza par
Pehle wo mujhe apna gunehgar to kar lein



Ik pal mein ik sadi ka maza hum se puchiye

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے
دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئے
بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم
قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے
آغاز عاشقی کا مزا آپ جانئے
انجام عاشقی کا مزا ہم سے پوچھئے
جلتے دیوں میں جلتے گھروں جیسی ضو کہاں
سرکار روشنی کا مزا ہم سے پوچھئے
وہ جان ہی گئے کہ ہمیں ان سے پیار ہے
آنکھوں کی مخبری کا مزا ہم سے پوچھئے
ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح
ہنسئے مگر ہنسی کا مزا ہم سے پوچھئے
ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمارؔ
توہین مے کشی کا مزا ہم سے پوچھئے

ویڈیو
THIS VIDEO IS PLAYING FROM YOUTUBE

خمارؔ بارہ بنکوی

خمارؔ بارہ بنکوی

خمارؔ بارہ بنکوی

خمارؔ بارہ بنکوی